اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے مبینہ دورہ سعودی عرب کی گرد ابھی بیٹھی نہیں تھی کہ اسرائیلی وزارت صحت نے سعودی عرب کو ان ممالک میں شامل کر لیا جہاں سے واپس آنے والوں کو قرنطینہ میں نہیں رہنا پڑتا۔
گزشتہ روز عالمی میڈیا میں یہ خبریں شائع ہوئی تھیں کہ اسرائیلی وزیراعظم کی سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ خفیہ ملاقات ہوئی ہے جس پر بین الاقوامی سطح پر تبصرے ہوئے تھے۔
اسرائیل کی وزارت صحت کی جانب سے سعودیہ کو کورون وائرس کی سبز لسٹ میں شامل کرنے کے بعد ایک مرتبہ پھر یہ دورہ زیربحث آ گیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ‘اے ایف پی’ کے مطابق اسرائیلی وزارت صحت نے تصدیق کی کہ سعودی عرب کو ایک روز قبل محفوظ ممالک والی فہرست میں شامل کر لیا گیا تھا، تاہم اس کا بینجمن نیتن یاہو کے دو روز قبل سعودی شہر نیوم کے مبینہ دورے سے تعلق ہونے کی نفی کی۔
اسرائیلی وزارت صحت کے ڈائریکٹر جنرل ہیزی لیوی نے سرکاری نشریاتی ادارے ‘کان’ کو بتایا کہ ‘یہ عمل بہت سادہ ہے جو ہر دو ہفتے بعد ایک بار ہوتا ہے’۔
انہوں نے کہا کہ پچھلی فہرست میں سعودی عرب سرخ ممالک میں شامل تھا تاہم اب وہاں مریضوں کی تعداد میں کمی آرہی ہے اس لیے اسے اب سبز ممالک میں شامل کرلیا گیا ہے اور اس کا کسی بھی ملک میں کسی کے بھی دورے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔