منگل کو ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وفاقی وزیر مراد سعید اور وزیراعظم کے مشیر ندیم افضل چن کے درمیان شدید جھڑپ کا انکشاف ہوا ہے۔
کابینہ ذرائع کے مطابق ندیم افضل چن اور مراد سعید کے درمیان گفتگو اتنی تلخ ہو گئی کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کو درمیان میں پڑ کر بات کو ختم کرانا پڑا ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں کے درمیان گرما گرم بحث اس وقت شروع ہوئی جب ندیم افضل چن نے اجلاس میں ایک عوامی نکتے پر توجہ دلائی جس کا تعلق مراد سعید کی وزارت سے تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت موٹر وے پر پنڈی بھٹیاں فیصل آباد ٹول پلازے پر غلط پالیسی لاگو کی گئی ہے جس کی وجہ سے گاڑیوں کا ٹول ادا کرتے وقت لمبی قطاریں لگنا شروع ہوگئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق ندیم چن نے کابینہ کو بتایا کہ اس مقام پر ٹول دینے کے لیے ہر گاڑی کو 30 منٹ سے 45 منٹ تک انتظار کرنا پڑ رہا تھا جس پر عوام بڑے پریشان تھے اور لوگوں کا وقت ضائع ہو رہا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ فوری طور پر اس معاملے پر توجہ کی ضرورت ہے، مراد سعید جو وزارت مواصلات کے وزیر ہیں نے فوری ردعمل دیا اور کہا کہ ندیم افضل چن کی معلومات درست نہیں تھیں۔
ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران مراد سعید نے سخت لفظ استعمال کیے اور جواب میں ندیم افضل چن نے بھی اسی انداز میں انہیں جواب دیا۔ تاہم باقی وزراء اس معاملے میں خاموش رہے اور دونوں وزیروں کے ایک دوسرے پر حملوں کو چپ چاپ سنتے رہے۔
جب ندیم افضل چن اور مراد سعید کے درمیان بات بہت بڑھ گئی تب جا کر وزیراعظم نے مداخلت کی اور معاملے کو ٹھنڈا کیا۔