وفاقی کابینہ کے منگل کو ہونیوالے اجلاس میں اس وقت سنگین صورت حال پیدا ہوگئی جب ہوابازی کے وزیر غلام سرور خان نے دعویٰ کیا کہ ان کی وزارت کے سیکرٹری ان کو بتائے بغیر کابینہ میں اہم سمریاں پیش کررہے ہیں اور غلط بیانی سے کام لیا جا رہا تھا۔
یہ سن کر کابینہ کے تین ارکان اسد عمر، پرویز خٹک اور فواد چوہدری نے سخت ردعمل دیا۔ ان وزراء کا کہنا تھا یہ کیسی بیوروکریسی ہے جو کابینہ تک کو دھوکا دے رہی تھی۔
ذرائع کے مطابق اس پورے معاملے میں سب سے سنگین بات یہ تھی کہ جس سمری کے بارے میں غلام سرور خان بات کررہے تھے کہ ان کے علم میں لائے بغیر کابینہ اجلاس میں پیش کی گئی تھی اس پر یہ لکھا ہوا تھا کہ وفاقی وزیر نے وہ سمری پڑھ بھی لی ہے اور اسے کابینہ میں بھیجنے کی منظوری بھی دے دی ہے۔
اس پر وزراء نے کہا یہ حالت ہے کہ اب وزیر کے نام پر کابینہ کو دھوکا دیا جارہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سمری دراصل ہائی ریز عمارتوں کے حوالے سے تھی جو بقول وزیر سرور خان کی ان کو پوچھے بغیر یا اس کی منظوری لیے بغیر کابینہ میں پیش کر دی گئی۔
اس سے پہلے بھی کابینہ میں وفاقی وزراء فیڈرل سیکرٹریز کے حوالے سے کافی اعتراضات کرتے ائے ہیں کہ انہیں غلط اعدادوشمار فراہم کر کے ان سے غلط فیصلے کرائے جاتے ہیں جس سے ان کو عوام اور میڈیا کی تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔