کورونا کی دوسری لہر دنیا کے زیادہ تر ممالک میں شدت اختیار کر چکی ہے، یورپ اس کا خصوصی نشانہ بنا ہوا ہے جس کی وجہ سے کئی ممالک ایک مرتبہ پھر لاک ڈاؤن کی طرف جا رہے ہیں۔
برطانیہ کے وزیراعظم نے 2 ماہ قبل لاک ڈاؤن کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ صرف ضروری دکانیں اور کاروبار کھلے رہیں گے، دیگر بند رہیں گے۔
بند رکھنے والے کاروباروں میں جم اور بیوٹی سیلون بھی شامل تھے جنہیں کھولنے کی قطعی اجازت نہیں تھی۔ تاہم قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انگلینڈ کی ریاست ویسٹ یارک شائر میں واقع ایک سیلون کو اس کی مالک خاتون نے کھول لیا، شہر کی کونسل نے اسے خود غرض اور غیر ذمہ دار قرار دیتے ہوئے بھاری جرمانہ عائد کر دیا ہے۔
9 نومبر کو پہلی بار خاتون کو جرمانہ عائد ہوا اور نوٹس جاری کیا گیا مگر انہوں نے نہ تو سیلون بند کیا اور نہ ہی جرمانہ ادا کیا جبکہ کونسل جرمانے کے نوٹس بھیجتی رہی۔
پہلے دن سیلون کھولنے پر ایک ہزار پاؤنڈ جرمانے کا نوٹس موصول ہوااور تیسرے دن چار ہزار پاؤنڈ کا اور پھر دس ہزار پاؤنڈ کااور اسی طرح رقم بڑھتی رہی اور 27 ہزار پاؤنڈز تک پہنچ گئی جو پاکستانی روپوں میں 27 لاکھ بنتے ہیں۔
اس کے باوجود خاتون نے قانون کی خلاف ورزی کرنا نہ چھوڑی، اس نے سوشل میڈیا سائٹ انسٹاگرام پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ لاک ڈاؤن میں کاروبار بند ہے اور مجھے سیلون کا کرایہ ادا کرنا ہے تو میں پیسے کہاں سے لاؤں؟
اب چونکہ خاتون سیلون بند کرنے سے باز نہیں آ رہی اور نہ ہی جرمانہ ادا کررہی ہے تو اب حکومت اس کے خلاف سخت ایکشن لینے کا سوچ رہی ہے۔
ابھی یہ فیصلہ کرنا باقی ہے کہ خاتون کا سیلون سیل کیا جائے یا اسے گرفتار کر کے جیل بھیج دیا جائے، کونسل اس حوالے سے غوروخوض میں مصروف ہے۔