اسلام آباد میں ہونے والے سی پیک منصوبے کے متعلق سیمنار میں وفاقی وزراء اور دیگر ماہرین نے خطاب کیا، اس موقع پر فواد چوہدری اور شبلی فراز نے اس منصوبے کی اہمیت کے متعلق تفصیل سے بتایا۔
سی پیک کا اصل مرحلہ اب شروع ہوا ہے، فواد چوہدری
وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے سی پیک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو چائنہ اور چائنہ کو پاکستان کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سی پیک کا اسٹریٹجک تعلق اکنامک تعلق میں تبدیل ہوا ہے، پاکستان کا جنوبی ایشیا میں روڈ نیٹ ورک بہترین ہے۔
وفاقی وزیر کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ سی پیک کا اصل مرحلہ اب شروع ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب ہماری حکومت آئی تو سی پیک میں ایگریکلچر اور سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کو شامل کیا، اسی طرح 11 اسپیشل اکنامنک زونز تعمیر کر کے ان پر انڈسٹری لگارہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا کی پانچ بڑی سولر پینل کمپیاں چائنہ کی ہیں، تین بڑی کمپنیاں دنیا کے کاروبار کو ٹیک اوور کر لیں گی، ٹیسلا پہلی کار بیٹری مینوفیکچرنگ کمپنی بن گئی ہے جو کہ چائنہ کی ہی کمپنی ہے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ بجلی کی مصنوعات بنانے والی کمپنیاں آئندہ چند سالوں میں اپنی مفت مصنوعات فراہم کرنے پر مجبور ہو جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ ہم بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی اجارہ داری ختم کر رہے ہیں، کیونکہ سولر پینل کے منصوبوں پر چائنہ سے بات کر رہے ہیں۔
فواد چوہدری نے کہا کہ ہم بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی اجارہ داری ختم کر رہے ہیں۔
اسی طرح پاکستان 23 لاکھ موٹر سائیکل اور 3 لاکھ چھوٹی گاڑیاں مارکیٹ میں آتی ہیں، ہم ٹرائی ویلرز لا رہے ہیں جو موٹرسائیکل کی قیمت کے برابر ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم ایک ارب ڈالر کے کیمیکل لارہے ہیں، چائنیز کمپنیوں کے ساتھ مل کر ان کیمیکلز کی تیاری کے بعد یہ پیسے بچائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ چائنہ کے ساتھ مل کر سی پیک منصوبوں پر جو کام ہوگا اس پر پاکستان کو بڑی کامیابیاں ملیں گی۔
فواد چوہدری نے کہا کہ پاکستان ماسک سے لیکر وینٹیلیٹرز بنا رہا ہے اور ایکسپورٹ بھی کر رہا ہے، سیالکوٹ میں تیار ہونے والا سرجری کا سامان 4 سو ملین ڈالر تک کا فروخت ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سے یہ سامان جرمنی خرید کر بھارت کو فروخت کر دیتا ہے، ہم سرجیکل اندسٹری کو 4 ارب ڈالر تک لے جائیں گے۔
گوادر سے چین کو مشرق وسطیٰ، افریقہ سے ملایا جائے گا، شبلی فراز
وزیر اطلاعات شبلی فراز نے سی پیک قومی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک پاکستان اور چین کے درمیان ایک اہم منصوبہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ون بیلٹ ون روڈ منصوبے سے سیاسی معاشی اور کلچرل ہم آہنگی اور امن میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ منصوبے کے تحت گوادر سے چین کو مشرق وسطیٰ اور افریقہ سے ملایا جائے گا۔
وزیر اطلاعات کے مطابق سی پیک سے سالانہ 8 ارب روپے ٹول ٹیکس اکٹھا ہونے کا اندازہ ہے، جبکہ منصوبے سے ابتدائی طور پر 23 لاکھوں ملازمتیں پیدا ہوں گی اور سی پیک سے پاکستان کی تیز رفتار ترقی میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ سی پیک کا دوسرا مرحلہ 2021 سے 2025 کے درمیان ہو گا، جس میں زراعت سائنس اور ٹیکنالوجی صنعتی اور سماجی شعبوں کی بہتری کیلئے منصوبے شروع کیے جائیں گے۔
سی پیک کے تین اہم منصوبے، چوہدری شفیق
پارلیمنٹری کمیٹی سی پیک کے رکن چوہدری شفیق نے کہا ہے کہ پاکستان 70 سالوں سے جن چیلنجز سے نبرآزما ہے اس میں اسی پیک ایک گیم چینجر ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹرانسپوٹیشنم انرجی اور روڈز کی ڈولپمنٹ کیلئے یہ اکنامک زون بہترین کردار ادا کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے پہلے اربوں روپے کے ٹرانسپورٹیشن کا نقصان اٹھانا پڑ رہا تھا، تاہم اس منصوبے کی تکمیل کے بعد توانائی اور دیگر منصوبوں پر اکنامک زون میں بہت فائدہ ہوگا۔
چوہدری شفیق کے مطابق روزگار اور معیشت کی بہتری کے لیے یہ منصوبہ اہمیت کا حامل ہے۔
انہوں نے پاکستان کی حکومت کے سات گول کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صحت، معیشت، تعلیم اور ٹرانسپورٹ ہماری ترجیح رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سی پیک کے تین اہم منصوبے پر ہنگامی بنیادوں پر کام ہو رہا ہے۔