سپریم کورٹ آف پاکستان نے کراچی میں اغواء کے بعد قتل کیے گئے امریکی صحافی ڈینیئل پرل کیس کے ملزمان کی رہائی کی استدعا مسترد کر دی ہے۔
جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے امریکی صحافی کے قتل کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیے کہ ڈینیئل پرل کے اہلخانہ کے وکیل مصروفیات کی وجہ سے پیش نہیں ہوسکے، حتیٰ کہ کراچی رجسٹری میں ویڈیو لنک کی سہولت موجود ہے اور وکلا کراچی رجسٹری میں ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہوتے رہتے ہیں۔
وکیل نے کارروائی کے دوران دلائل دیتے ہوئے بتایا کہ کیس کے ملزمان 19 سال سے جیل میں ہیں، انہوں نے عدالت کو بتایا کہ سندھ ہائی کورٹ نے 2 اپریل کو ڈینیئل پرل قتل کیس کا فیصلہ سنایا لیکن اس کے باوجود ملزمان غیرقانونی حراست میں ہیں۔
سندھ حکومت کے وکیل نے ملزمان کی رہائی کا فیصلہ معطل کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ فیصلہ معطل نہ ہوا تو سندھ حکومت کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑھ سکتا ہے۔
وکیل کے دلائل پر جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ اتنے عرصے سے اپیل زیر التوا ہے، پہلے کچھ نہیں ہوا تو اب بھی کچھ نہیں ہوگا۔
عدالت نے کیس کی سماعت کو دسمبر کے پہلے ہفتے تک ملتوی کر دیا ہے۔
یاد رہے امریکی اخبار وال اسٹریٹ جنرل کے جنوبی ایشیا کے بیورو چیف 38 سالہ ڈینیئل پرل کراچی میں مذہبی انتہا پسندی پر تحقیق کررہے تھے جب انہیں جنوری 2002 میں اغوا کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔
سال 2002 میں امریکی قونصل خانے کو بھجوائی گئی ڈینیئل پرل کو ذبح کرنے کی گرافک ویڈیو کے بعد عمر شیخ اور دیگر ملزمان کو گرفتار کیا گیا تھا۔
انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ملزم احمد عمر سعید شیخ المعروف شیخ عمر کو سزائے موت جبکہ شریک ملزمان فہد نسیم، سلمان ثاقب اور شیخ عادل کو مقتول صحافی کے اغوا کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔