• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
جمعرات, اپریل 23, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

شادی کے لیے مذہب کی تبدیلی غیرقانونی قرار

by sohail
نومبر 25, 2020
in انتخاب, تازہ ترین, دنیا
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

بھارت کی ریاست اترپردیش میں شادی کے لیے زبردستی مذہب کی تبدیلی کو غیرقانونی قرار دے دیا گیا ہے۔

لو جہاد کے خلاف بنائے گئے نئے قانون کے تحت مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو شادی سے دو ماہ قبل ضلعی مجسٹریٹ کو درخواست بھیجنی ہوگی، جس پر نظرثانی کے بعد جوڑے کی شادی کی اجازت دی جائے گی۔

نئے قانون کے مطابق خلاف ورزی کرنے والے افراد کو جیل کی ہوا کھانی پڑے گی۔

ریاستی حکومت کے ترجمان سدھارتھ ناتھ سنگھ کے مطابق کابینہ نے گزشتہ روز شادی کے لیے غیر قانونی مذہب تبدیلی، مخالف قانون کے التزام کی منظوری دے دی گئی جس کے تحت شادی کے نام پر مذہب تبدیلی کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔

قانون کے مطابق اجتماعی طور پر مذہب تبدیل کرنے کے لیے 3 سے 10 سال کی سزا مقرر کی گئی ہے جب کہ 15 سے 50 ہزار تک کا جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔

تجاویز میں بتایا گیا ہے کہ کسی بھی مذہبی رہنما کو مذہب کی تبدیلی کے لیے ضلعی مجسٹریٹ سے اجازت لینی ہوگی۔

یاد رہے کہ لو جہاد کے حوالے سے انتہا پسند ہندو تنظیموں کی جانب سے مسلم لڑکوں پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ مسلمان لڑکے ایک بین الاقوامی سازش کے تحت ہندو لڑکیوں کو اپنی محبت کے دام میں پھنسا کر ان کا مذہب تبدیل کراتے ہیں اور پھر اُن سے شادی کرلیتے ہیں۔

ہندو لڑکیوں کو مسلمان بنا کر ان سے شادی کرنے کے ہندو تنظیمیں لو جہاد کا نام دیتی ہیں۔

یاد رہے حکمران جماعت بھارتی جنتا پارٹی کے زیرانتظام پانچ ریاستوں میں لو جہاد کے خلاف قانون سازی کا اعلان کیا گیا تھا۔

معاملے پر نظر رکھنے والے ماہرین کہتے ہیں کہ لو جہاد’ ایک اصطلاح ہے جس کا اختراع دائیں بازو کی ہندوتوا نواز جماعتوں نے ہندو خواتین کی مسلم مردوں سے ہونے والی شادی کے بارے میں کیا ہے۔

معروف خبر رساں ایجنسی رائٹرز میں شائع کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اتر پردیش میں اس سے پہلے مختلف مذاہب کے افراد کی شادیوں کے بہت کم واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اتر پردیش کم واقعات سامنے آنے کے باوجود اس طرح کی قانون سازی کرنے والی پہلی ریاست ہے۔

یاد رہے کہ بھارتی قانون میں بین المذاہب شادیوں پر کوئی پابندی نہیں لیکن چند ریاستوں نے بین المذاہب شادیوں کو غیر قانونی قرار دے رکھا ہے۔

Tags: اترپردیشبھارت ریاستبی جے پیبین المذاہب شادیشادیاںقانون سازی
sohail

sohail

Next Post

روس کی دوسری کورونا ویکسین تیاری کے آخری مراحل میں پہنچ گئی

چین بھارت تنازعہ، بھارت نے ایکسپریس سمیت 43 ایپس پر پابندی لگا دی

پاک فوج میں ترقیاں اور تعیناتیاں، 6 کورکمانڈرز تبدیل

کورونا پر کنٹرول کے ساتھ لوگوں کو بھوک سے بچایا، وزیراعظم کا ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب

سام سنگ نے گلیکسی سیریز کے دو ماڈل متعارف کرا دیے

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In