بھارت کی ریاست اترپردیش میں شادی کے لیے زبردستی مذہب کی تبدیلی کو غیرقانونی قرار دے دیا گیا ہے۔
لو جہاد کے خلاف بنائے گئے نئے قانون کے تحت مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو شادی سے دو ماہ قبل ضلعی مجسٹریٹ کو درخواست بھیجنی ہوگی، جس پر نظرثانی کے بعد جوڑے کی شادی کی اجازت دی جائے گی۔
نئے قانون کے مطابق خلاف ورزی کرنے والے افراد کو جیل کی ہوا کھانی پڑے گی۔
ریاستی حکومت کے ترجمان سدھارتھ ناتھ سنگھ کے مطابق کابینہ نے گزشتہ روز شادی کے لیے غیر قانونی مذہب تبدیلی، مخالف قانون کے التزام کی منظوری دے دی گئی جس کے تحت شادی کے نام پر مذہب تبدیلی کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔
قانون کے مطابق اجتماعی طور پر مذہب تبدیل کرنے کے لیے 3 سے 10 سال کی سزا مقرر کی گئی ہے جب کہ 15 سے 50 ہزار تک کا جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔
تجاویز میں بتایا گیا ہے کہ کسی بھی مذہبی رہنما کو مذہب کی تبدیلی کے لیے ضلعی مجسٹریٹ سے اجازت لینی ہوگی۔
یاد رہے کہ لو جہاد کے حوالے سے انتہا پسند ہندو تنظیموں کی جانب سے مسلم لڑکوں پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ مسلمان لڑکے ایک بین الاقوامی سازش کے تحت ہندو لڑکیوں کو اپنی محبت کے دام میں پھنسا کر ان کا مذہب تبدیل کراتے ہیں اور پھر اُن سے شادی کرلیتے ہیں۔
ہندو لڑکیوں کو مسلمان بنا کر ان سے شادی کرنے کے ہندو تنظیمیں لو جہاد کا نام دیتی ہیں۔
یاد رہے حکمران جماعت بھارتی جنتا پارٹی کے زیرانتظام پانچ ریاستوں میں لو جہاد کے خلاف قانون سازی کا اعلان کیا گیا تھا۔
معاملے پر نظر رکھنے والے ماہرین کہتے ہیں کہ لو جہاد’ ایک اصطلاح ہے جس کا اختراع دائیں بازو کی ہندوتوا نواز جماعتوں نے ہندو خواتین کی مسلم مردوں سے ہونے والی شادی کے بارے میں کیا ہے۔
معروف خبر رساں ایجنسی رائٹرز میں شائع کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اتر پردیش میں اس سے پہلے مختلف مذاہب کے افراد کی شادیوں کے بہت کم واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اتر پردیش کم واقعات سامنے آنے کے باوجود اس طرح کی قانون سازی کرنے والی پہلی ریاست ہے۔
یاد رہے کہ بھارتی قانون میں بین المذاہب شادیوں پر کوئی پابندی نہیں لیکن چند ریاستوں نے بین المذاہب شادیوں کو غیر قانونی قرار دے رکھا ہے۔