دنیا بھر میں تباہی پھیلانے والے کورونا وائرس کے متعلق خیال کیا جاتا رہا ہے کہ یہ وائرس چین سے شروع ہوا اور باقاعدہ کیس رپورٹ نا ہونے کے باعث دنیا بھر میں پھیل گیا۔
لیکن اب چینی سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے دعویٰ کیا ہے کہ کورونا وائرس کی ابتدا بھارت سے ہوئی تھی۔
برطانوی اخبار ڈیلی میل کے مطابق چینی ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ کورونا وائرس گزشتہ سال گرمیوں میں بھارت سے شروع ہوا۔
چین کی اکیڈمی آف سائنسز کے سائنس دانوں کی ایک ٹیم نےکہا ہے کہ کورونا وائرس جانوروں کے ذریعے گندے پانی سے انسانوں تک پہنچا۔ اس کے بعد یہ انڈیا سے چین کے ووہان پہنچا، جہاں اس کی پہلی بار شناخت کی گئی۔
سائنسدانوں نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ انڈیا میں صحت کے ناقص نظام کی وجہ سے یہ وائرس ہزاروں لوگوں کو متاثر کرنے کی وجہ بنا۔
چینی ماہرین کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آنے کے بعد دیگر ماہرین بھی میدان میں آگئے ہیں۔
برطانوی ماہر صحت ڈیوڈ رابرٹسن نے چینی سائنسدانوں کی تحقیق کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ چینی سائنس دانوں کی تحقیق ناقص ہے اور اس سے کورونا وائرس سے متعلق معلومات میں اضافہ نہیں ہوتا ہے۔
یاد رہے کورونا نامی وائرس کا پہلا کیس گزشتہ سال دسمبر میں چین کے شہر ووہان میں سامنے آیا تھا۔
مریضوں کی تعداد بڑھنے کے خطرے کو دیکھ کر چینی حکومت نے ووہان شہر میں لاک ڈاؤن کا اعلان کرتے ہوئے شہر کا رابطہ دیگر ملک سے ختم کر دیا تھا۔
ووہان کے اسپتالوں میں ایمرجینسی نافذ کر دی گئی تھی۔
امریکا نے اس سے پہلے چین پر وائرس کے پھیلاؤ سے متعلق واضح معلومات فراہم نا کرنے کا الزام لگایا تھا۔
امریکا نے دعویٰ کیا تھا کہ وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ چین ہے۔