گزشتہ برس جون میں جب فیس بک نے اپنی ڈیجیٹل کرنسی لبرا کا اعلان کیا تو اس کے خلاف اداروں اور ملکوں کی جان سے شدید ردعمل آیا۔
ان رکاوٹوں کی وجہ سے کئی بڑی کمپنیاں، جو اس پراجیکٹ میں فیس بک کے ساتھ تھی، الگ ہو گئیں اور یہ منصوبہ بظاہر ناکام ہو گیا۔
لیکن اب فنانشل ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ فیس بک لبرا جنوری 2021 میں محدود انداز میں متعارف کیا جا سکتا ہے۔
فیس بک کا ابتدائی منصوبہ ایسے ڈیجیٹل سکے تخلیق کرنا تھا جو مختلف ملکوں کی کرنسیوں کی نمائندگی کرتے جبکہ ایک سکہ ایسا ہوتا جو تمام کرنسیوں کا امتزاج قرار دیا جاتا۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق اب فیس بک صرف امریکی ڈالرز والی ڈیجیٹل کرنسی پیش کرنے جا رہا ہے، دیگر ممالک کی کرنسیوں کو بعد ازاں اس کا حصہ بنایا جائے گا۔
گزشتہ سال کمپنی کا کہنا تھا کہ اس کرپٹو کرنسی کو 2020 کی پہلی سہ ماہی تک متعدد اداروں کے ساتھ متعارف کرایا جائے گا۔
اس موقع پر فیس بک نے بتایا تھا کہ ’لبرا‘ کو متعارف کرانے کے لیے فیس بک کے ساتھ 28 شراکت دار موجود ہوں گے جن میں پے پال، ماسٹر، ویزا، ای بے، اوبر، کوائن بیس اور مرسی کارپس سمیت دیگر شامل ہوں گے۔
مگر اکتوبر 2019 میں اس پراجیکٹ سے جڑی متعدد کمپنیوں نے خود کو اس سے الگ کرلیا تھا۔
4 اکتوبر کو سب سے پہلے معروف مالیاتی ادارے پے پال نے لبرا ایسوسی ایشن سے نکلنے کا فیصلہ کیا، پھر ماسٹر کارڈ اور ویزا، ای بے ، اسٹرائپ اور مرکیڈو پاگو نے اس ایسوسی ایشن سے علیحدگی اختیار کرلی۔