سندھ ہائی کورٹ میں حویلیاں پی آئی اے طیارہ حادثہ کی تحقیقات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جس میں پی آئی اے اور سول ایوی ایشن کے ٹیکنیکل افسران پیش ہوئے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے متعلقہ افسران سے استفسار کیا کہ اتنا بڑا حادثہ ہوا ہے اس کا ذمہ دار کون ہے؟ اس پر پی آئی اے کے ٹیکنیکل ڈائریکٹر نے کہا کہ یہ ایک ٹیکنیکل مسئلہ تھا جس سے ہم نے سبق سیکھا ہے۔
عدالت نے کہا کہ لوگ رقم خرچ کر کے ٹکٹ خریدتے ہیں اگر مسافر محفوظ نہیں ہیں تو کیا فائدہ؟
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ہمارے بار بار کے اصرار پر طیارہ حادثہ کیس کی رپورٹ آ گئی ورنہ کبھی رپورٹ سامنے نہ آتی۔ عدالت نے کہا کہ اس رپورٹ کے بعد کیا پی آئی اے نے کسی ذمہ دار کا تعین کیا؟
عدالت نے مزید کہا کہ آپ لوگوں نے خرابی کے باوجود جہاز اڑایا اس کا ذمہ دار کون ہے؟
پی آئی اے حکام نے عدالت کو بتایا کہ ممکنہ حادثات سے بچنے کیلئے نیا سوفٹ ویئر بنایا گیا ہے۔
عدالت نے کہا کہ طیارے کا بلیڈ ٹوٹا ہوا تھا، جہاز میں واضح فالٹ تھا اس کے باوجود پرواز کی اجازت کیوں دی گئی؟
عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ آپ رپورٹ پڑھ کر کیوں نہیں آئے، کیا آپ چاہتے نہیں ہیں کہ رپورٹ یہاں ڈسکس ہو۔
طیارے حادثے میں شہید ہونے والے کپٹن کی والدہ عدالت میں رو پڑیں کہ میرے بیٹے کو انہوں نے زبردستی فلائٹ پر بھجا تھا، یہی وہ لوگ ہیں جو میرے بیٹے کی موت کا سبب ہیں۔
شہید کپٹن کی والدہ کا کہنا تھا کہ میرا بیٹا شدید دباؤ میں تھا کیونکہ وہ دن میں تین تین جہاز اڑا رہا تھا۔
اس پر عدالت نے کہا ہمیں آپ کے بیٹے سمیت جہاز میں شہید ہونے والے تمام مسافروں کا دکھ ہے۔
عدالت نے سول ایوی ایشن حکام کو ہدایت کی کہ حادثے سے متعلق ہمیں ایک ایک چیز بتائیں، جہازوں کو کیسے چیک کرکے اجازت دیتے ہیں۔
عدالت نے حادثے کی ذمہ داری سے متعلق سول ایوی ایشن اتھارٹی سے تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ عدالت نے پی آئی اے کے موجودہ اے ٹی آر طیاروں کی مینٹیننس سے متعلق بھی تفصیلات مانگ لی ہیں۔
عدالت نے دستاویزات کی روشنی میں پی آئی اے اور دیگر کو جواب جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے مزید سماعت 17 دسمبر تک ملتوی کردی۔
خیال رہے کہ 7 دسمبر 2016 کو چترال سے اسلام آباد پرواز کرنے والا پی آئی اے کا اے ٹی آر طیارہ حویلیاں کے قریب گر کر تباہ ہوگیا تھا، اس حادثے میں معروف نعت خواں و مبلغ جنید جمشید اور ان کی اہلیہ سمیت 47 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔