سندھ حکومت نے آئی جی سندھ مشتاق مہر کو ہٹا کر نئے آئی جی کیلئے وفاقی حکومت کو نام دے دیئے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نےویمن سوشل پروٹیکشن تھیم پر مبنی تقریب میں شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں وفاق کی جانب سے سندھ حکومت کو درخواست کی گئی تھی جس میں نئے آئی جی کیلئے نام مانگے گئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے کچھ نام وفاقی حکومت کو بھجوا دیئے ہیں، امید ہے انہی میں سے نئے انسپکٹر جنرل کا تقرر ہو گا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ آئی جی کی تقریری کیلئے صوبائی حکومت کی طرف سے وفاق کو 5 نام ارسال کئے گئے ہیں، تاہم انہوں نے نام ظاہر کرنے سے گریز کیا۔
خیال رہے مشتاق مہر گریڈ بائیس کے پولیس افسر ہیں، انہوں نے رواں سال مارچ میں سندھ پولیس کے 60 ویں آئی جی کے عہدے کا چارج سنبھالا تھا۔
وہ اس سے قبل تین سال تک کراچی پولیس کے سربراہ کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں نبھا چکے تھے۔
ان کی تعیناتی 2015 میں سابق ایڈیشنل آئی جی غلام قادر تھیبو کی جگہ پر ہوئی تھی۔
اس کے بعد 2017 میں انہیں ٹریفک پولیس کا سربراہ بنا دیا گیا تھا، جبکہ وہ پاکستان ریلوے میں بھی آئی جی کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔
مشتاق مہر مارچ 2020 میں سابق آئی جی کلیم امام کی جگہ سندھ پولیس کے سربراہ بنے تھے۔ وفاقی حکومت نے انہیں آئی جی سندھ بنانے کی منظوری دی تھی۔
آئی جی سندھ مشتاق مہر بھی تنازعات کا شکار رہے ہیں، 2018 میں سندھ حکومت نے منی لانڈرنگ کے گواہان پر دباؤ ڈالنے کے الزام میں انہیں عہدے سے ہٹانے کا حکم دیا تھا۔
مشتاق مہر کی سروس کے دوران سب سے بڑا تنازع اس وقت سامنے آیا جب لیگی رہنما کپنٹن ریٹائرڈ صفدر کے خلاف مزار قائد کی بے حرمتی کے کیس میں ان پر مبینہ طور پر دباؤ ڈالا گیا، اس پر آئی جی سندھ سمیت صوبے کے تمام بڑے افسران نے چھٹیوں پر جانے کی درخواستیں دے دی تھیں۔