جاپانی حکومت نے ملک کی گرتی شرح پیدائش کو بہتر کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کے میدان میں بڑی رقم خرچ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے استعمال سے بنائی گئی اسکیمز کے ذریعے رہائشیوں کو شریک زندگی تلاش کرنے میں آسانی ہوگی۔
اگلے سال سے جاپان ایسی مقامی حکومتوں کو سبسڈی فراہم کرے گا جو پہلے سے ہی مصنوعی ذہانت پر مبنی ایسے منصوبے بنا رہی ہیں جن کے ذریعے لوگوں کو موزوں شریک حیات حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔
جاپان میں پچھلے سال پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد 865،000 سے کم رہی جو کہ جاپان میں اب تک کی ریکارڈ کمی دیکھی گئی ہے۔ ان اعداد و شمار کو پیش نظر رکھتے ہوئے جاپان عرصہ دراز سے اس کمی کو دور کرنے کے منصوبے بنا رہا ہے۔
اے ایف پی خبررساں ادارے کے مطابق مصنوعی ذہانت پر مبنی منصوبوں کے سلسلے میں جاپانی سرکار اگلے سال مقامی حکام کے لئے 3 کھرب 79 کروڑ روپے مختص کرے گی۔
اس سلسلے میں پہلے ہھی حکومت کی طرف سے کئی ایسے اقدامات اٹھائے گئے ہیں جن کے ذریعے عوام کی طرف سے جمع کردہ ایسے فارمز کا تجزیہ بہتر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے جن میں ان کی ذاتی تفصیلات درج ہوتی ہیں۔
ان مصنوعی ذہانت پر مبنی اقدامات میں سے چند انتظامات ایسے ہیں جن میں آمدنی اور عمر کو معیار بنایا گیا ہے جو کہ صرف اس صورت میں نتیجہ فراہم کرتے ہیں جب جمع کردہ تفصیلات (آمدنی اور عمر) کسی دوسرے شخص کی جمع کردہ تفصیلات سے بہترین مطابقت رکھتی ہوں۔
مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ ان فنڈز کے ذریعے حکام مصنوعی ذہانت کے ذریعے بنائے گئے انتظامات میں لوگوں کی مزید تفصیلات شامل کر کے ان انتظامات کو بہتر بنا سکتے ہیں۔
ملکی لائحہ عمل بنانے والے ملک کی گرتی ہوئی افرادی قوت اور فلاح و بہبود کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو پہلو بہ پہلو رکھنے کے لیے مسلسل کوشاں ہیں ۔ مصنوعی ذہانت پر مبنی اقدامات بھی اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔