• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
اتوار, مئی 31, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

محمود اچکزئی کا پنجاب کو طعنہ دینا ن لیگ کو نقصان دے گا، رؤف کلاسرا

by sohail
دسمبر 14, 2020
in انتخاب, پاکستان, تازہ ترین
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

سینئر تجزیہ کار اور صحافی رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ محمود خان اچکزئی کی پنجابیوں کو طعنہ دینے والی بات سے نون لیگ اور مجموعی طور پر پی ڈی ایم کو نقصان ہو گا جبکہ اس سے محمود اچکزئی کو سیاسی فائدہ ہو گا۔

اپنے وی لاگ میں رؤف کلاسرا نے کہا ہے کہ لاہور میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا جلسہ زیادہ بڑا نہیں تھا جس کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) کی صفوں میں خاموشی پھیلی ہوئی ہے جبکہ حکومتی عہدیداران خوش ہیں۔

رؤف کلاسرا نے کہا کہ عمران خان کی حکومت لاہور کے جلسے سے قبل دباؤ محسوس کر رہی تھی کیونکہ اس بات کا امکان تھا کہ لاہوری بڑی تعداد میں باہر نکلیں گے اور اپوزیشن ایک بڑا شو کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ جب تک عمران خان نے لاہور میں بڑا جلسہ نہیں کیا تھا وہ اقتدار کے کھیل کے سنجیدہ امیدوار نہیں سمجھے جاتے تھے، 2011 کے بڑے جلسے کے بعد قومی سیاست میں ان کا قد بلند ہوا تھا۔

ان کا تجزیہ ہے کہ لاہور جلسے کے بعد حکومتی رہنماؤں کے لب ولہجے میں اعتماد بھر گیا ہے، وہ دھڑادھڑ بیانات دے رہے ہیں، ٹوئٹر پر متحرک ہیں اور پریس کانفرنسز کر رہے ہیں۔

لاہور سے لوگ باہر کیوں نہیں نکلے؟

رؤف کلاسرا کے مطابق لاہور کے لوگ بہت کم تعداد میں جلسے میں شریک ہوئے ہیں، اس کی ایک وجہ تو سردیوں کا موسم بتایا جا رہا ہے، اس کے ساتھ ساتھ کورونا وبا بھی ایک وجہ تھی۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے پاس کہنے کو کوئی نئی بات نہیں تھی، وہ گزشتہ جلسوں میں آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ کے نام لے کر تنقید کر چکے تھے، اس کے بعد اگلا مرحلہ کوئی نہیں تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ لوگ ایک ہی گفتگو بار بار نہیں سن سکتے، یہی وجہ ہے کہ عمران خان کے انٹرویوز کی بھی وہ ریٹنگ نہیں آتی جو اپوزیشن میں ان کے ہوتے ہوئے آیا کرتی تھی کیونکہ وہ بھی ایک قسم کی باتیں دہراتے رہتے ہیں۔

رؤف کلاسرا نے کہا کہ جو ویڈیوز سامنے آ رہی ہیں ان سے لگتا ہے کہ ن لیگی رہنماؤں کی تقاریر کے دوران ہی لوگ جلسہ گاہ چھوڑ کر جا رہے ہیں۔

عمر شیخ فیکٹر نے کیا کام دکھایا؟

رؤف کلاسرا کے مطابق ان کی پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں سے بات ہوئی ہے اور انہوں نے بتایا کہ عمر شیخ نے سی سی پی او لاہور بننے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے بڑے بڑے قبضہ گروپ اور گینگز پر ہاتھ ڈالا ہے جس کی وجہ سے نون لیگ کا اثر کم ہوا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کے مطابق لاہور پولیس میں بڑے پیمانے پر تبادلے اور تقرریاں کی گئی ہیں، مسلم لیگ (ن) کے حمایتی ایس ایچ اوز کو ایک طرف کر دیا گیا ہے، یہ بھی ایک وجہ بنی ہے۔

محمود اچکزئی اور پنجاب، پشتون معاملہ

رؤف کلاسرا نے کہا ہے کہ محمود اچکزئی نے کل لاہور کے جلسے میں پنجابیوں کو انگریزوں کا ایجنٹ ہونے کا طعنہ دے ڈالا، یہ ایک کمزور بال تھی جس پر آج حکومتی رہنماؤں نے خوب کھیلا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ فواد چوہدری اور شہباز گل نے پریس کانفرنس کی اور اس موضوع پر نون لیگ کو خوب لتاڑا، یہ تاریخ کے دیے ہوئے زخم ہیں جنہیں محمود اچکزئی نے پھر سے تازہ کر دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پنجاب اور پختون کی ایک کشمکش جاری رہتی ہے، نئی نسل اس کے بارے میں نہیں جانتی اور نہ ہی اسے میڈیا میں زیادہ اچھالا گیا ہے لیکن خاموشی سے یہ کشمکش موجود رہتی ہے۔

رؤف کلاسرا نے اس موضوع پر اپنا ذاتی تجربہ بھی بیان کیا جو بہت اہم اور دلچسپ ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ماضی میں افغان حملہ آور موجودہ پختونخوا سے گزر کر پنجاب پر حملے کرتے تھے اور لوٹ مار کر کے واپس چلے جاتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ پہلی بار معاملہ اس کے برعکس ہوا، انگریزوں کے پنجاب پر قبضہ کرنے سے پہلے 80، 90 سال تک پنجاب کے سکھوں اور پختونوں کی تین بڑی جنگیں ہوئیں جن میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کی فوجوں کو کامیابی ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس دوران پختونوں کا وہ زعم ختم ہو گیا کہ انہیں کوئی شکست نہیں دے سکتا، رنجیت سنگھ نے پشاور اور جمرود پر قبضہ کر کے موجودہ افغانستان کی طرف رخ کیا جس پر انہوں نے باجگزار کی حیثیت میں خراج دینا قبول کر لیا۔

رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ رنجیت سنگھ نے ملتان پر بھی قبضہ کیا تھا اور وہاں کے نواب مظفرخان کو شہید کر دیا تھا، یہی وجہ ہے کہ جنوبی پنجاب کے لوگ رنجیت سنگھ کو برا سمجھتے ہیں جسے کئی پنجابی اپنا ہیرو گردانتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ محمود اچکزئی نے انہی تین جنگوں کا حوالہ دے کر شکوہ کیا کہ پنجاب کے لوگ پختونوں کے بجائے انگریزوں کے ساتھ مل گئے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ لاہور جلسے میں پنجابیوں کو ایسا طعنہ دینا مسلم لیگ (ن) کے لیے بہت نقصان دہ ہو گا جبکہ محمود اچکزئی کے لیے فائدہ مند ہو گا کیونکہ ان کے علاقے کے لوگ اس بات پر خوش ہوں گے کہ انہوں نے پنجاب کے دل میں کھڑا ہو کر پنجابیوں کو سنوائی ہیں۔

Tags: پی ڈی ایم کا لاہور میں جلسہرؤف کلاسرارؤف کلاسرا کا وی لاگلاہور جلسہ کیوں ناکام ہوا؟محمود اچکزئیمہاراجہ رنجیت سنگھ
sohail

sohail

Next Post

پی ڈی ایم کا حکومت کو 31 جنوری تک مستعفی ہونے کا الٹی میٹم

ایمیزون کے جنگلات میں 12 ہزار سال پرانی پینٹنگز دریافت

ریٹنگ کے نظام میں ہیرپھیر، معروف بھارتی میڈیا گروپ کے چیف ایگزیکٹو گرفتار

افریقی ملک سوازی لینڈ کے وزیراعظم کورونا وائرس کے ہاتھوں ہلاک

عدالت میں بابراعظم پر خاتون کے الزامات جھوٹے قرار

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In