• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
بدھ, اپریل 29, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home تازہ ترین

ایمیزون کے جنگلات میں 12 ہزار سال پرانی پینٹنگز دریافت

by sohail
دسمبر 14, 2020
in تازہ ترین, دنیا
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

محققین نے ایمیزون کے جنگلات میں ہزاروں ایسی چٹانی پینٹنگز دریافت کی ہیں جن پر برفانی دور کی بڑی مخلوقات کی تصویر کشی کی گئی ہے۔

برطانوی یونیورسٹی آف ایکسیٹر کے محققین کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ یہ پینٹنگز تقریباً 11 ہزار8 سو سال سے 12 ہزار 6 سو سال قبل بنائی گئی ہیں۔ ان پینٹنگز کو تین مختلف پتھریلی چٹانوں پر بنایا گیا ہے جن میں سے سب سے بڑی سطح پر ہزاروں پکٹوگرافس شامل ہیں۔

یہ چٹانی آرٹ جدید دور کولمبیا کے علاقے سیرانیا لا لنڈوسہ میں دریافت کی گئی ہیں جن کو دیکھ کر اس علاقے کے ابتدائی انسانی باشندوں اور برفانی دور کی مخلوقات کے رہن سہن کے بارے میں پتہ چلتا ہے۔

خیال کیا جارہا ہے کہ ان تصاویر میں موجود مخلوقات میں بڑے بڑے سلاتھ، میسٹوڈون، اونٹ اور گھوڑے شامل ہیں۔

یونیورسٹی آف ایکسیٹر کے ماہر آثار قدیمیہ مارک روبنسن کا کہنا کے کہ یہ ناقابل یقین تصاویر مغربی ایمیزونیہ کے ابتدائی باشندوں نے بنائی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان پینٹنگز سے ابتدائی آبادیوں کی زندگیوں کے بارے میں وسیع پیمانے پر دلچسپ معلومات ملتی ہیں۔

مزید تصاویر میں انسانی خدوخال کی عکاسی کی گئی ہے جبکہ ان میں جیومیٹرک اشکال، شکار کے مناظر اور متعدد جانوروں جن میں ہرن، چمگادڑ، بندر، کچھوا، سانپ اور مگرمچھ کی تصاویر بھی شامل ہیں۔ یہ لال پینٹنگز جنوبی امریکہ میں پائی جانے والی چٹانی پینٹنگز کے بڑے مجموعوں میں سے ایک ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ نقش نگاروں نے آگ کا استعمال کر کے چٹانوں کی سطحوں کو ہموار بنا کر ان پر پینٹنگز بنائی ہوں گی۔ یہ چٹانی پینٹنگزایمیزون میں پائی جانے والی باقی چٹانی آرٹز سے بہتر حالت میں ہیں کیوںکہ یہ پینٹنگز ایک بڑی چٹان کے نیچے تھیں جس کے باعث یہ قدرتی نقصان دہ عناصر سے محفوظ رہیں۔

پریس ریلیز کے مطابق ان پینٹنگز میں سے کچھ تصاویر اس قدر اونچائی پر بنائی گئی تھیں کہ ان کو بنانے کے لیے جنگلات کے مخصوص وسائل کی ضرورت پڑی ہوگی۔

محققین کی جانب سے ایمیزون میں آباد ہونے والی ابتدائی آبادیوں کے متعلق تحقیق کی جارہی ہے۔ تحقیق کا مرکز ان آبادیوں کا حیاتی نظام پرآثار کو سمجھنا ہے۔

Tags: ایمیزون جنگلبرفانی دورقدیم پینٹنگز
sohail

sohail

Next Post

ریٹنگ کے نظام میں ہیرپھیر، معروف بھارتی میڈیا گروپ کے چیف ایگزیکٹو گرفتار

افریقی ملک سوازی لینڈ کے وزیراعظم کورونا وائرس کے ہاتھوں ہلاک

عدالت میں بابراعظم پر خاتون کے الزامات جھوٹے قرار

جوبائیڈن کی فتح کا باقاعدہ اعلان، 20 جنوری کو عہدہ سنبھالیں گے

اسلام آباد: ہوٹل کی پانچویں منزل سے گر کر ایک لڑکی ہلاک، دوسری شدید زخمی

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In