محققین نے ایمیزون کے جنگلات میں ہزاروں ایسی چٹانی پینٹنگز دریافت کی ہیں جن پر برفانی دور کی بڑی مخلوقات کی تصویر کشی کی گئی ہے۔
برطانوی یونیورسٹی آف ایکسیٹر کے محققین کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ یہ پینٹنگز تقریباً 11 ہزار8 سو سال سے 12 ہزار 6 سو سال قبل بنائی گئی ہیں۔ ان پینٹنگز کو تین مختلف پتھریلی چٹانوں پر بنایا گیا ہے جن میں سے سب سے بڑی سطح پر ہزاروں پکٹوگرافس شامل ہیں۔
یہ چٹانی آرٹ جدید دور کولمبیا کے علاقے سیرانیا لا لنڈوسہ میں دریافت کی گئی ہیں جن کو دیکھ کر اس علاقے کے ابتدائی انسانی باشندوں اور برفانی دور کی مخلوقات کے رہن سہن کے بارے میں پتہ چلتا ہے۔
خیال کیا جارہا ہے کہ ان تصاویر میں موجود مخلوقات میں بڑے بڑے سلاتھ، میسٹوڈون، اونٹ اور گھوڑے شامل ہیں۔

یونیورسٹی آف ایکسیٹر کے ماہر آثار قدیمیہ مارک روبنسن کا کہنا کے کہ یہ ناقابل یقین تصاویر مغربی ایمیزونیہ کے ابتدائی باشندوں نے بنائی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان پینٹنگز سے ابتدائی آبادیوں کی زندگیوں کے بارے میں وسیع پیمانے پر دلچسپ معلومات ملتی ہیں۔
مزید تصاویر میں انسانی خدوخال کی عکاسی کی گئی ہے جبکہ ان میں جیومیٹرک اشکال، شکار کے مناظر اور متعدد جانوروں جن میں ہرن، چمگادڑ، بندر، کچھوا، سانپ اور مگرمچھ کی تصاویر بھی شامل ہیں۔ یہ لال پینٹنگز جنوبی امریکہ میں پائی جانے والی چٹانی پینٹنگز کے بڑے مجموعوں میں سے ایک ہیں۔
ماہرین کا خیال ہے کہ نقش نگاروں نے آگ کا استعمال کر کے چٹانوں کی سطحوں کو ہموار بنا کر ان پر پینٹنگز بنائی ہوں گی۔ یہ چٹانی پینٹنگزایمیزون میں پائی جانے والی باقی چٹانی آرٹز سے بہتر حالت میں ہیں کیوںکہ یہ پینٹنگز ایک بڑی چٹان کے نیچے تھیں جس کے باعث یہ قدرتی نقصان دہ عناصر سے محفوظ رہیں۔
پریس ریلیز کے مطابق ان پینٹنگز میں سے کچھ تصاویر اس قدر اونچائی پر بنائی گئی تھیں کہ ان کو بنانے کے لیے جنگلات کے مخصوص وسائل کی ضرورت پڑی ہوگی۔
محققین کی جانب سے ایمیزون میں آباد ہونے والی ابتدائی آبادیوں کے متعلق تحقیق کی جارہی ہے۔ تحقیق کا مرکز ان آبادیوں کا حیاتی نظام پرآثار کو سمجھنا ہے۔