اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) بھارت کی جانب سے نواز شریف کو پناہ کی پیش کش کیے جانے کا امکان، سینئر قانون دان اعتزاز احسن کے مطابق ویزہ توسیع کی درخواست مسترد ہونے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے بھارت فائدہ اٹھا کر اپنی چال چلے گا، لیکن یقین ہے کہ میاں صاحب بھارت کی کسی پیش کش کو قبول نہیں کریں گے۔ تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کے قائد اور پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف کی ویزہ توسیع درخواست مسترد ہونے کے بعد ملک کے معروف اور سینئر قانون دان اعتزاز احسن کی جانب سے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ویزہ توسیع کی درخواست مسترد ہونے کے باوجود نواز اب بھی برطانیہ میں مزید کئی ماہ قیام کر سکتے ہیں، انہیں فوری برطانیہ سے بے دخل کرنا ممکن نہیں۔
اعتزاز احسن کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ویزہ توسیع کی درخواست مسترد ہونے کے بعد بھی نواز شریف کے پاس 2 آپشنز موجود، فیصلے کیخلاف اپیل کرنے کا حق استعمال کرنے کی صورت میں سابق وزیراعظم کو مزید کئی ماہ برطانیہ میں قیام کی اجازت مل جائے گی۔ نواز شریف برطانوی امیگریشن حکام اور پھر عدالت میں بھی اپیل دائل کر سکتے ہیں، ان اپیلوں کا فیصلہ آنے میں چند ماہ لگ جائیں گے، اس دوران قائد ن لیگ برطانیہ میں قیام کر سکیں گے۔
دوسری جانب دیگر قانونی ماہرین کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اگر فیصلے کیخلاف کی گئی اپیلوں کا فیصلہ بھی نواز شریف کے حق میں نہیں آیا، تو اس صورت میں برطانوی حکومت قائد ن لیگ کو برطانیہ سے نکل جانے کی ڈیڈ لائن دے گی۔ برطانوی حکومت کے فیصلے کے تحت مقررہ مدت میں برطانیہ نہ چھوڑنے کی صورت میں قائد ن لیگ کو قانون کے تحت حراست میں لے لیا جائے گا۔