• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
ہفتہ, اپریل 18, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home Uncategorized

جب کوئی وزیراعظم سپریم کورٹ میں پیش ہوتا ہے تو اس کا انجام اچھا نہیں ہوتا

by sohail
نومبر 10, 2021
in Uncategorized
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) وزیرِ اعظم عمران خان سانحہ آرمی پبلک اسکول از خود نوٹس کیس میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے طلب کرنے پر پیش ہو ئے۔اسی حوالے سے سینئر صحافی حبیب اکرم کا کہنا ہے کہ جب کوئی وزیراعظم سپریم کورٹ میں پیش ہوتا ہے تو اس کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔ بہت سارے والدین کو یہ شکوہ ہے کہ حکومت نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے،اس کے بعد حکومت بدل بھی گئی،جب سانحہ اے پی ایس ہوا تو ن لیگ وفاق میں اور پی ٹی آئی کے پی کے میں حکومت کر رہی تھی لیکن دونوں حکومتوں نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے۔
اگر سپریم کورٹ کی مداخلت پر یہ وعدے پورے ہوتے ہیں تو یہ بہت اچھی بات ہے۔ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ پاکستان میں جب وزراء اعظم عدالت میں پیش ہوتے ہیں تو اس کی ایک سیاسی تاریخ بھی موجود ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ جب وزراء اعظم عدالت میں پیش ہوتے ہیں تو اس کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔وزیراعظم نے عدالت پیش ہو کر بہت اچھا کیا۔واضح رہے کہ بدھ کو چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے سانحہ آرمی پبلک اسکول کیس کی سماعت کی ۔
وزیرِ اعظم عمران خان سانحہ آرمی پبلک اسکول از خود نوٹس کیس میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے طلب کرنے پر پیش ہو ئے تو تو چیف جسٹس نے کہا کہ وزیر اعظم صاحب، آپ آئیں جس پر روسٹرم پر نے کھڑے ہو کر وزیراعظم کہاکہ میں قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتا ہوں، ملک میں کوئی مقدس گائے نہیں ہے، آپ حکم کریں، ہم ایکشن لیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمارا نائن الیون سے کوئی تعلق نہیں تھا، ہمیں پتہ ہی نہیں تھا کہ دوست کون اور دشمن کون، میں نے اس وقت کہا تھا یہ امریکا کی جنگ ہے، ہمیں مداخلت نہیں کرنی چاہیے، 80 ہزار لوگ دہشت گردی کی جنگ میں شہید ہوئے،میں نے کہا تھا ہمیں نیوٹرل رہنا چاہیے ،ہمارا نائن الیون سے کوئی تعلق نہیں تھا، ہمیں پتہ ہی نہیں تھا کہ دوست کون اور دشمن کون۔
وزیر اعظم نے کہاکہ 2014 میں جب سانحہ ہوا ہماری حکومت تھی کے پی میں،سانحہ کی رات ہم نے اپنی پارٹی کا اجلاس بلایا،واقعہ کے دن ہی پشاور گیا تھا، ہسپتال جا کر زخمیوں سے بھی ملا، واقعہ کے وقت ماں باپ سکتے میں تھے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت جو بھی مداوا کرسکتی تھی کیا، والدین کہتے ہیں ہمیں حکومت سے امداد نہیں چاہیے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ رپورٹ کے مطابق کوئی خاص اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔
چیف جسٹس نے کہاکہ آئین پاکستان میں عوام کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ والدین چاہتے ہیں کہ اس وقت کے اعلی حکام کیخلاف کارروائی ہوئی۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ والدین کو تسلی دینا ضروری ہے۔ عدالت عظمیٰ نے 20 اکتوبر کے حکم نامے پر عملدرآمد کی ہدایت کی جس پر وزیراعظم عمران خان نے سپریم کورٹ کو انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

sohail

sohail

Next Post

پاکستان ورلڈ کپ سے باہر

خریداروں کیلئے اہم خبر ، سونے کی قیمت میں کمی

سب کچھ اوکے ، سب کچھ اچھا کی رپورٹ 

گھریلو صارفین کو کھانا پکانے کیلئے دن میں کتنی مرتبہ سوئی گیس فراہم کرنے کی تیاریاں ؟ تجویز پیش کر دی گئی

اسٹیبلشمنٹ عمران خان کو سپورٹ کرتے تھک گئی،اگلے وزیر اعظم کیلئے کس نے امیدیں لگا لیں ؟ ہارون الرشید کا بڑا دعویٰ

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In