اسلام آباد (عمران مگھرانہ )سندھ بھر میں ہونے والے قتل،ڈکیتیوں،چوریوں،اغوا برائے تاوان اور ریپ کیسز کی رپورٹ سینیٹ داخلہ کمیٹی میں پیش، ہوش ربا اعداد و شمار نے پاکستانیوں کو دہلا کر رکھ دیا۔ سینیٹ داخلہ کمیٹی میں پیش کی گئی دستاویزات کے مطابق کراچی میں سٹریٹ کرائمز میں ہوشربا اضافہ ہوا ، سال2021ء میں کراچی میں شہری 74ہزارموبائل فونز، موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں سے محروم ہوئے۔ بتایا گیا ہے کہ سال2021ء میں کراچی کے شہریوں سے ساڑھے22ہزار سے زائد موبائل چھینے گئے،45ہزار موٹر سائیکل چوری ہوئے،سوا4ہزار شہریوں سے کراچی میں موٹر سائیکلیں چھینی گئیں، پونے2ہزار گاڑیاں چوری ہوئیں،222شہریوں سے کاریں چھینی گئیں جبکہ گزشتہ9برسوں سے کراچی کے شہریوں سے 1لاکھ61ہزار سے زائد موبائل فون چھینے گئے اور2لاکھ34ہزار موٹر سائیکل چوری ہوئےاور کراچی کے شہریوں کو 9 سالوں میں 28ہزار موٹر سائیکلوں کی ڈکیتیاں برداشت کرنا پڑیں ۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ سندھ میں یکم جنوری سے 30نومبر2021ء تک 4بینکوں میں ڈکیتیاں اور ہائی وے پر 50ڈکیتی اور چوری کی وارداتیں رپورٹ ہوئیں۔ سال 2021ء میں سندھ میں 1577افراد کا قتل ہواجبکہ
گزشتہ 2برسوں میں سندھ میں 306بھتہ خوری اور 384اغوا برائے تاوان کی وارداتیں رپورٹ ہوئیں۔ افسوسناک رپورٹ میں سال 2021ء میں سندھ میں 147خواتین 13لڑکیوں کے قتل کا انکشاف کیا گیا ۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ رواں سال سندھ میں خواتین کے 199ریپ 13گینگ ریپ رپورٹ ہوئے۔