اسلام آباد(عمران مگھرانہ) سینیٹ کی داخلہ کمیٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں سینیٹر محسن عزیز کی سربراہی میں ہوا۔ سینیٹ داخلہ کمیٹی کے اجلاس میں وزیر داخلہ آئے نہ ہی سیکرٹری داخلہ موجود تھے۔کمیٹی اجلاس میں آئی جی سندھ نے بھی شرکت نہیں کی۔ سینیٹر مولا بخش چانڈیو نے چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز کو مخاطب کر کے کہا کہ کمیٹی اجلاس میں وزیر داخلہ نہ ہی سیکرٹری داخلہ آتے ہیں۔سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ سیکرٹری داخلہ آتے ہیں۔ سینیٹر مولانا بخش چانڈیو نے کہا کہ وزیر داخلہ کے پاؤں پر مہندی لگی ہوئی ہے اس لیے وہ نہیں آتے ہیں جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ میں آپ کی اس بات سے اتفاق کرتا ہوں۔ سینیٹ داخلہ کمیٹی میں سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے سندھ پولیس کی ظالمانہ کاروائیوں کا پول کھول کر رکھ دیا۔سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے اندرون سندھ پولیس کی بے رحمانہ کارروائیوں سے کمیٹی کو آگاہ کیا۔انہوں نے کہا کہ یہاں پر ساری ہندو کمیونٹی داؤ پر لگی ہوئی ہے۔جیکب آباد کے ہندو لعل چند نے کمیٹی کو پولیس کی زیادتیوں پر آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہم باپ بیٹے کو اٹھا کر تھانے لے گئے، تشدد کیا، برہنہ کر کے تصاویر بنائی گئیں۔میری بیوی کو پتہ چلا کہ ہمیں اغوا کیا گیا، وہ کومے میں چلی گئی اور فوت ہو گئی جس پرارکان کمیٹی نے لعل چند سے اظہار افسوس کیا۔سینیٹر ثمینہ زہری نے کہا کہ اس پولیس افسر کو کس نے اختیار دیا کہ اٹھا کر لے جائے، ٹارچر کرے، تصاویر بنائے۔ پولیس حکام نے بتایا کہ قربان علی چانڈیو نے پریس کلب کے سامنے جا کر خود سوزی کرنے کی کوشش کی تھی۔پولیس حکام نے مزید بتایا کہ قربان علی نے کہا تھا کہ اس نے لعل چند سے 50بوریاں کھاد کی لیں۔کھاد جعلی نکلی، ساری فصل خراب ہو گئی، جس پر قربان علی نے خود کو جلانے کا کہا۔ پولیس نے کمیٹی کو بتایا کہ سیشن کورٹ میں ان کی پٹیشن خارج ہو گئی ہے۔سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے سوال اٹھایا کہ کیاکسی اور شخص نے بھی جعلی کھاد، جعلی پیسٹی سائیڈ کی شکایت کی؟ سینیٹر سیف اللہ ابڑو سندھ پولیس کی ظالمانہ کارروائیوں سے کمیٹی کو آگاہ کرتے رہے۔سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ کیا سندھ میں بھیڑ بکریاں رہتی ہیں؟ سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ صادق آباد میں 9افراد کو پمپ پر قتل کیا گیا مگر ابھی تک رپورٹ نہیں آئی۔سکھر اور لاڑکانہ میں اندھیر نگری ہے۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ آپ کی بھیانک اور دردناک قسم کی کہانیاں ہیں۔کراچی جاتے ہیں وہاں جا کر سب کو بلاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آپ کی شکایات جائز ہیں اور بہت زیادہ ہیں۔ سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے بتایا کہ ان کے اوپر حملہ کیا گیا۔ میری ایف آئی آر کاٹنے کی بجائے الٹا میرے لوگوں پر ایف آئی آر درج کر لی گئی۔چیئرمین داخلہ کمیٹی سینیٹر محسن عزیز نے آئندہ اجلاس کراچی میں رکھنے کا فیصلہ کر لیا۔ارکان سینیٹ داخلہ کمیٹی نے فیصل آباد میں خواتین کو برہنہ کرنے کے معاملہ پر نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔ سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ سندھ میں ایسا نہیں ہوتا بچیوں کو برہنہ کر کے بازا میں گھمایا جائے۔سینیٹر فیصل سبزواری نے کراچی میں سٹریٹ کرائمز پر توجہ مبذول کروائی۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے شہریوں کو بس تو دے نہ سکے ان کے پاس جو کچھ ہے وہ بھی لیا جا رہا ہے۔کراچی میں 11ماہ میں 78ہزار اسٹریٹ کرائمز ہوئے ہیں۔