اسلام آباد(عمران مگھرانہ)قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت شروع ہوا۔تلاوت، نعت اور قومی ترانے کے بعداسپیکر اسد قیصر نے اجلاس کی کاروائی وقفہ سوالات سے چلانے کی کوشش کی جس پرن لیگی ایم این اے شیخ فیاض الدین نے کورم کی نشاندہی کردی۔
شیخ فیاض الدین نے حکومتی ارکان اسمبلی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہم بھی دور سے آتے ہیں حکومتی ارکان کو بھی بلوائیں۔ خالی کرسیاں دیکھ کر ہمیں بھی شرم آ رہی ہے۔
اسپیکر اسد قیصر نے کورم کی نشاندہی پر اجلاس کی کاروائی کورم مکمل ہونے تک ملتوی کر دی۔کورم کی نشاندہی کے بعدوزراء کی ایوان میں آمدشروع ہو گئی۔
وفاقی وزراء میں پرویز خٹک، شاہ محمود قریشی، اسد عمر، شیریں مزاری،مراد سعید، خسرو بختیار، سرور خان، عمرا یوب، اعجاز شاہ اجلاس میں شریک ہوئے۔درجن بھر کے قریب وزراء کی موجودگی کے باوجود حکومت کورم مکمل نہ کر سکی۔حکومتی اور اتحادی ایم این ایز پارلیمنٹ کو اہمیت دینے سے انکاری ہو چکے ہیں۔
پی ٹی آئی ایم این ایز کی غیر سنجیدگی کی وجہ سے قومی اسمبلی کا اجلاس پھر کورم کی نظر ہو گیاہے اور حکومت کو مسلسل سبکی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔اپوزیشن اجلاس کی کاروائی کورم کی نشاندہی پر روکنے میں مسلسل کامیاب ہو رہی ہے۔
بدھ، جمعہ اور سوموار کو اس سیشن کا تیسرا اجلاس تھا اور تینوں اجلاس کورم نہ ہونے اور اپوزیشن کی طرف سے کورم کی نشاندہی پر ملتوی ہوئے ہیں۔