اسلام آباد(عمران مگھرانہ)سینیٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت میں ہوا۔ سینیٹ میں اپوزیشن اور حکومتی ارکان کی ایک دوسرے پر شدید تنقید رہی۔ سینیٹر محسن عزیز نے پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ کے وقار کا خیال رکھنا چاہئے۔
سینیٹ کے ماحول کو مچھلی منڈی نہ بنایا جائے۔میرا تو ساتواں سال ہے لوگوں کی یہاں کافی مدت گزر گئی ہے۔یہاں ہمارے اوپر عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ لگتا ہے۔سینیٹر محسن عزیز نے اپنی توپوں کا رخ پیپلز پارٹی کی طرف موڑتے ہوئے کہا کہ بھرتی کی وجہ سے اسٹیل ملز،پی آئی اے اور ریلوے تباہ ہوئے، ایک ایک بھرتی پر پیسے لیے گئے تھے۔
میں ان کو آئینہ دکھا رہا ہوں۔ سینیٹر محسن عزیز نے سینیٹر شیری رحمان کا نام لے کر کہا کہ سینیٹر شیری رحمان بہت بڑی پوسٹوں پر رہی ہیں۔ہم آپ سے اچھی باتیں سیکھنا چاہتے ہیں، خراب باتیں کراچی چھوڑ آیا کریں۔سینیٹر بہرہ مند تنگی نے پی ٹی آئی پرجوابی وار کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹر محسن عزیز آپ کو حکومت وزیر نہیں بنائے گی۔
سینیٹر بہرہ مند تنگی نے محسن عزیز کو وزارت نہ ملنے کاطعنہ دے ڈالا۔حکومت آپ کو وزارت نہیں دے گی۔یہاں بدبو دار دھرنے والے والے لوگ نہیں بیٹھے ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی کو سیاست کا بھی پتہ ہے سیاسی روایات کا بھی پتہ ہے۔
نااہل، نالائق، نا سمجھ حکومت مختلف طریقوں سے پیسے اکٹھی کر رہی ہے۔سینیٹر آصف کرمانی نے منی بل کو جگا ٹیکس کا نام دے دیا ہے۔ سینیٹر آصف کرمانی نے سوال اٹھا تے ہوئے کہا کہ سابق مشیر خزایہ حفیظ شیخ نظر نہیں آ رہے ہیں۔
جگا ٹیکس ہر 15دن کے بعد مسلط کیا جا رہا ہے۔گیس ہے نہیں مگر بل25ہزار روپے کا آ رہا ہے۔وہ دن دور نہیں جب پاکستانی عوام سڑکوں پر آئے گی مگر بے قیادت آئے گی۔