اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) معروف تجزیہ کار عدنان عادل کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کی سزا ختم ہونے کا امکان ہے۔92نیوز کی رپورٹ کے مطابق سینئر تجزیہ کار عدنان عادل کا پروگرام مدِمقابل میں گفتگو کرتے ہوئے کہنا ہے کہ نئے سال میں بہت سی ایسی چیزیں ہو سکتی ہیں جس کے پاکستان کئی سیاست پر اہم اثرات ہوں گے۔
18 جنوری کو مریم نواز کیس کی سماعت شروع ہو گی۔بینچ میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس عامر فاروق شامل ہیں جو اس کیس کی سماعت کر رہے ہیں،اس بات کا امکان ہے کہ اگر مریم نواز کے کیس کی سماعت ہوتی رہے تو شاید مریم نواز کی سزا ختم ہو جائے۔انہوں نے کہا سپریم کورٹ بار کے صدر نے کہا کہ ہم سپریم کورٹ کے پاس درخواست لے کر جائیں گے کہ وہ وضاحت کرے کہ آرٹیکل جس کے تحت نوازشریف کو تاحیات نااہل کیا گیا وہ تاحیات نااہل ختم کی جائے اور اسے پانچ سال تک محدود کیا جائے، اگر ایسا ہو گیا تو نوازشریف بہت بڑے ہیرو بن کر پاکستان واپس آ جائیں گے۔
خیال رہے کہ سپریم کورٹ بار کے نو منتخب صدر احسن بھون کا کہنا تھا کہ عوامی عہدہ کے لیے تاحیات نااہلیت غیر قانونی ہے۔اس ضمن میں تشریح کے لیے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کی جائے گی، سپریم کورٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ تاحیات نااہلی کے فیصلوں پر آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح کی جائے۔ آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح کے لیے آئینی درخواست دائر کریں گے۔انہوں نے اعلان کیا ہے کہ نیب آرڈیننس کے خلاف درخواست تیاری کے مراحل میں ہے، جلد عدالت میں چیلنج کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جہانگیر ترین اور نواز شریف جیسے فیصلے ایک فرد کو ٹارگٹ کرنے کے مترادف ہیں، ان جیسے فیصلوں پر نظر ثانی ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ تاحیات نااہلی کا قانون بھی جلد چیلنج کیا جائیگا۔