اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) ملکی معیشت تباہ مگر ذاتی کاروبار خوب چمک رہے ہیں ، وزیر اعظم کی تنخواہ کے حساب سے دیکھیں تو ان کا ٹیکس حد ماریں 10 لاکھ بنتا ہے ، مگر کپتان نے دیا 98لاکھ ، آخر عمران خان ایسا کونسا کاروبار کر رہے ہیں؟ ۔ سینئر صحافی رئوف کلاسرا نے ٹی وی چینل پر اپنے پروگرام میں وزیر اعظم پاکستان کے ٹیکس گوشواروں کے حوالے سے دلچسپ انکشاف کرتے ہوئے بڑا اہم سوال بھی اٹھا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کی تنخواہ ڈھائی لاکھ ہے جو سال کی بنی تیس لاکھ تو اس حساب سے ان کا ٹیکس بنتا ہے تقریباً سات آٹھ لاکھ یا چلیں حد ماریں 10 لاکھ بننا چاہئے مگر کپتان نے دیا 98 لاکھ ۔ عامر متین نے انکشاف کیا کہ 2017 میں عمران خا ن ایک لاکھ ٹیکس دے رہے تھے ، 2018 میں وہ ایک لاکھ اور چند ہزار روپے ہوا اور پھر اچانک سے وہ ٹیکس 98 لاکھ ہو گیا جس پر رئوف کلاسرا کا کہنا تھا کہ گو کہ یہ اچھی بات ہے انہوںنے اتنا ٹیکس دیا لیکن میں اس پر حیران ہوں آخر کپتان ایسا کونسا کاروبار کر رہے ہیں ؟ رئوف کلاسرا کا مزید کیا کہنا تھا ؟ ویڈیو ملاحظہ کریں :
پارٹ ٹو ۔۔۔