اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان میں سونے کی سالانہ کھپت 160 ٹن (ایک لاکھ 60 ہزار کلو گرام) ہے جس میں سے 80 ٹن (80 ہزار کلوگرام) سونا سمگلنگ کے ذریعے پاکستان لایا جاتا ہے۔
سینیٹر طلحہ محمود کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) حکام نے انکشاف کیا کہ پاکستان میں سالانہ 160 ٹن سونا استعمال میں آتا ہے، 80 ٹن سونا مختلف ممالک سے سمگلنگ کے ذریعے آ رہا ہے۔ پاکستان میں سونے کی مارکیٹ تقریباً 2200 ارب روپے کی ہے لیکن ایف بی آر میں صرف 29 ارب روپے کی گولڈ مارکیٹ ڈکلیئرڈ ہے۔ ملک میں سونے کا کام کرنے والے 36 ہزار میں سے صرف 54 سنار ہی ایف بی آر کو ٹیکس دیتے ہیں۔
اجلاس کے دوران گولڈ ایسوسی ایشن کے حکام نے بتایا کہ صرف سونا ہی نہیں بلکہ ہیرے بھی سمگلنگ کے ذریعے پاکستان آ رہے ہیں، پاکستان میں سونا درآمد کرنے کی کوئی پالیسی اور ٹیکس نظام نہیں ہے۔ اجلاس کے دوران وزارت تجارت کے حکام نے بتایا کہ سونا کمرشل بنیادوں پر درآمد کرنے کی اجازت نہیں ہے اور اس کی درآمد کیلئے ڈالرز کا بندوست خود کرنا پڑتا ہے۔ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے ہدایت کی کہ سونے کی سمگلنگ روکنے کیلئے اقدامات کیے جائیں۔