لندن (مانیٹرنگ ڈیسک ) سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر پاکستان میں مسلم لیگ ن کی حکومت ہوتی تو ڈالر کی قیمت 120 روپے ہوتی، اگر نواز شریف کو نہ ہٹایا جاتا تو ملکی معیشت آٹھ فیصد کی شرح سے ترقی کر رہی ہوتی، سابق وزیر خزانہ نے موجودہ حکومت کو سی پیک کو سبوتاژ کرنے کا ذمہ دار بھی ٹھہرایا۔
نجی ٹی وی 24 نیوز کے پروگرام دستک میں گفتگو کے دوران سابق وزیر خزانہ نے حکومت کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگرانہوں نے مصنوعی طور پر ڈالر کم رکھا تھا تو اس کا ثبوت پیش کریں۔ سٹیٹ بینک ترمیمی بل پر تنقید کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ نے اس کو ملکی معیشت کے لیے بڑا خطرہ قرار دے دیا۔
اینکر نے جب ان سے پوچھا کہ اگر ن لیگ کی حکومت ہوتی تو کیا قانون سازی نہ ہوتی؟ اسحاق ڈار نے اس سوال کا جواب نہ دیا اور ماضی کی اپنی کارکردگی بتاتے رہے۔
سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار @MIshaqDar50 کہتے ہیں کہ اگر ہماری حکومت ہوتی تو ڈالر 120 سے اوپر نہ جاتا وہ جو آج بہتر GDP گروتھ کی بات کرتے ہیں انھیں بتانا چاہتا ہوں کہ اگر ہم حکومت میں ہوتے تو آج شرح نمو 8 فیصد ہوتی pic.twitter.com/hxerU6dkuY
— Rehan Tariq (@RehanTofficial) February 3, 2022