اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک ) مسلم لیگ (ن) کی صدر مریم نواز نے اعتراف کر لیا ہے کہ ان کی جماعت میں ابتداء میں ووٹ کو عزت دو کے طریقہ کار پر اختلاف تھا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ نواز شریف تحریک عدم اعتماد کے خلاف تھے، جماعت کے سینئر رہنماؤں نے فیصلے کا حق میاں صاحب کو سونپ دیا ، میاں صاحب نے جماعت کے کارکنوں اور عوام کے جذبات کو مد نظر رکھتے ہوئے عد تحریک عدم اعتماد کے حق میں فیصلہ کیا ۔
ایک صحافی نے مریم نواز سے سوال پوچھا کہ کیا سٹیبشلمنٹ سے صلح ہو گئی ہے ، مریم نواز نے جواب دیا کہ حالات اس لئے بدلے ہیں کیوں کہ عمران خان ناکام ہو گئے ہیں ، عوام انہیں بد دعائیں دے رہے ہیں ، ملک میں بد امنی ، دہشتگردی پھر سے شروع ہو گئی ہے جبکہ مہنگائی نے عوام سے ان کے زندہ رہنے کا حق بھی چھین لیا ہے ۔ جن لوگوں کی تنخواہ 15 فیصد بڑھی ہے مجھے ان سے ہمدردی ہے ، کیوں کہ کچھ علاقوں میں تو مہنگائی پانچ ، چھ سو گنا سے بھی زیادہ بڑھ چکی ہے وہ بیچارے 15 فیصد اضافہ لے کر کیا کریں گے ، ادویات کی قیمتیں سینکڑوں گنا بڑھ چکی ہیں ۔
مریم نواز نے کہا کہ میں نے حکومت اور ان کے وزراء کو پہلے بھی مشورہ دیا تھا کہ جب بھی عوام میں نکلیں ہیلمنٹ پہن کر نکلیں ، عمران خان کی تقاریر ڈوبتی کشتی کو بچانے کی کوشش ہوتی ہے ، ان کے اتحادی دوسری جماعتوں سے رابطے میں ہے ، ان کے اپنے ارکان قومی اسمبلی میں کھڑے ہو کر اور ٹی وی شوز میں بیٹھ کر ان ہی کے خلاف بول رہے ہیں ، نیب نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب ہو چکا ہے ۔صحافی نے سوال پوچھا کہ پیپلزپارٹی کے ساتھ مل کر تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد وزیر اعظم کون ہو گا ، مریم نواز نے کہا کہ فی الوقت ہمارا فوکس تحریک عدم اعتماد پر ہے ، کون سیٹ اپ کو ٹیک اوور کرے گا یا کون وزیر اعظم بنے گا یہ بعد کی بات ہے ۔