اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے بیٹے یائر نیتن نے اپنے باپ کے خلاف احتجاج کرنیوالوں کو کہا ہے کہ وہ انہیں کورونا وائرس سے مرتے دیکھنا چاہتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق بائیں بازو کی جماعت میریز کی جانب سے کرپشن کے خلاف احتجاج کیا گیا تھا، بعد ازاں جماعت کے چیئرمین نے ٹویٹ کرکے بتایا کہ ‘حابیما سکوائر پر بہت بڑا احتجاج کیا گیا، کرپشن کے خلاف لڑائی، جمہوریت کیلئے جدوجہد‘
یائر نیتن یاہو کی جانب بائیں بازو کی جماعت میریز کے چیئرمین نیزان ہورووز کی ٹویٹ کا جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انکی خواہش ہے کہ اس احتجاج کے بعد مرنے والے بوڑھے افراد کا تعلق انکے بلاک سے ہو۔
اسرائیل کا راسخ العقیدہ طبقہ کس طرح کورونا وائرس پھیلا رہا ہے؟
جیل میں قید سعودی بادشاہ کی بھتیجی کا اپنی رہائی کے لیے خط سامنے آ گیا
یاد رہے بائیں بازو کی جماعت کی جانب سے کرپشن کے خلاف احتجاج میں سماجی فاصلوں پر عمل کیا گیا جنہیں ’نیزان‘ کی جانب سے ٹویٹر پر لگائی گی تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے۔
سخت تنقید کے بعد یائر نیتن یاہو نے اس ٹویٹ کو ڈیلیٹ کر دیا اور صفائی دیتے ہوئے کہا کہ انہیں لگ رہا تھا کہ اس احتجاج میں جمع ہونیوالے مجمع سے کورونا وائرس پھیلے گا اور وہ تو چاہتے ہیں کہ مرنیوالے انکے لوگ نہ ہوں۔
وزیراعظم نیتن یاہو کے آفس کی جانب سے ایک بیان جاری کرکے اپنے بیٹے کی خواہش کی مذمت کی گئی، اسرائیلی وزیراعظم کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں کوئی بلاک نہیں ہے اور نہ ہی کسی قسم کے بلاک ہونے چاہئیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ وزیراعظم بغیر کسی فرق کے تمام شہریوں کے تحفظ اور بھلائی کیلئے کام کر رہے ہیں۔
بائیں باز کے رہنما نیزان کی جانب سے یائر نیتن یاہو کی ٹویٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا گیا کہ مخالف سیاسی کیمپ کے لوگوں کے مرنے کی خواہش بیمار ذہنیت ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم کے بیٹے یائر نیتن یاہو ماضی میں بھی کئی تنازعات کی زد میں رہ چکے ہیں۔ وہ ٹوئٹر پر اسرائیل کے سابق وزیراعظم یزاک رابن پر 2ہزار اسرائیلیوں کے قتل کا الزام لگا چکے ہیں۔
اسرائیل میں کورونا وائرس کے شکار افراد کی تعداد 13,107 جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 158 ہے۔