سعادت حسن منٹو سے تو آپ واقف ہوں گے؟ وہی منٹو جو تقسیم ہند کے درد کی کہانیاں سناتے سناتے مر گیا لیکن یار لوگوں نے اس پر فحاشی کا الزام لگا کر بدنام کیا ہوا ہے۔ اپنے ایسے ہی ایک “فحش” افسانے ٹھنڈا گوشت میں منٹو ہمیں ایک سکھ ایشر سنگھ کی کہانی سناتا ہے۔ سن سنتالیس کے فسادات کے دوران یہ ایشرسنگھ اپنے ہم مذہبوں کے ہمراہ ایک مسلمان گھر پر دھاوا بولتا ہے اور چھ لوگوں کو اپنی کرپان سے کاٹ کر ایک لڑکی اغوا کر لیتا ہے۔ پھر جب اس سے زیادتی کی کوشش کرتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ وہ مری ہوئی تھی۔ ایک لاش، ٹھنڈا گوشت تھی۔ درندے کے اندر کا انسان جاگتا ہے اور ایشر سنگھ ہمیشہ کیلئے اپنی خواہش کھو دیتا ہے۔
اس کہانی کی کھڑکی سے منٹو ہمیں تقسیم کے دنگوں کی بھیانک جھلک دکھاتا ہے۔ کرب اور درد کی مگر ہزاروں ایسی داستانیں ہیں جو ان سنی رہیں۔ لاکھوں لوگوں کو وقت نے ایک ایسے دوراہے پر لا کھڑا کیا تھا جہاں انہیں زندگی اور وطن میں سے ایک کا انتخاب کرنا تھا۔ جنہیں زندگی پیاری تھی، ہجرت ان کا مقدر ٹھہری اور جنہوں نے وطن کا انتخاب کیا وہ کاٹ کر مٹی میں ملا دیے گئے۔
یہ تو خیر چڑھدے پنجاب کا افسانہ تھا۔ لیکن لہندے پنجاب کے ایشر سنگھ کی کہانی سچی ہے۔ فیض آباد سے مری روڈ پر سرینا ہوٹل کی طرف جائیں تو راول چوک سے ایک سڑک چک شہزاد اور دوسری راول ڈیم کو مڑ جاتی ہے۔ راول جھیل کے کنارے کنارے پختہ سڑک پر چلتے چلتے آپ ایک پرانی خستہ حال عمارت کے پاس پہنچ جاتے ہیں۔ اس کے آس پاس کبھی راول گاؤں آباد تھا۔ چند سال ہوئے اب یہ سڑک ملک کے وسیع تر مفاد میں عام عوام کے لیے بند کردی گئی ہے اور محافظ یہاں وطن عزیز کا دفاع کر رہے ہیں۔
سو گھرانوں پر مشتمل یہ ایک چھوٹا سا گاؤں تھا۔ واہگہ کے پاس ابھی لکیر نہیں کھینچی گئی تھی۔ سو مسلمان جن کے چالیس گھر تھے اور “غیر مذہب” جو گاؤں میں کثرت میں تھے، سب اکٹھے رہتے تھے۔ اور ایشر سنگھ ایک سکھ گاؤں کا نمبردار تھا۔ وہ ہندو، مسلم اور سکھ نہیں تھے۔ وہ گکھڑ، کیانی، راجپوت اور ملہیار (ارائیں)تھے۔
برصغیر میں ابھی آزادی نہیں پھیلی تھی۔ راول گاؤں اور اردگرد سکون کا عالم تھا۔ مقامی روایت بیان کرتی ہے کہ رام اور سیتا نے سیدپور کے رام کنڈ تالاب کا سفر کیا تھا اور بنسی والے کرشن بھگوان نے راول گاؤں کو اپنا مسکن بنایا۔ اس لئے گاؤں کے کسانوں نے یہاں کرشن کے نام پر تین شوالے (چھوٹے مندر) تعمیر کیے تھے۔
پھر سن سنتالیس کے مارچ کی 6 تاریخ آن پہنچی۔ کہوٹہ کے قریب بلوائیوں نے تھوہا خالصہ گاؤں کو جلا کر راکھ کر دیا ۔ سکھ سردار تلواروں پر چڑھ گئے اور سردارنیاں عصمت بچانے کیلیے کنویں میں کود گئیں۔ یوں تو سارا گاؤں لاشوں سے اٹا تھا مگر اکیلا سردار گلاب سنگھ کی حویلی کا کنواں اس دن 93 جانیں نگل گیا تھا۔ ابھی آزادی ہند ایکٹ کا اجراء بھی نہیں ہوا تھا کہ راولپنڈی اور اسکے گردونواح میں آزادی کا طبل بج گیا۔
کوہ مری سے جتھے راولپنڈی اور قرب وجوار پر دھاوا بول کر بیرونی حملہ آوروں کی روایت زندہ کرنے لگے تو ایشر سنگھ اور راول گاؤں کے دوسرے سکھ اور ہندو باسیوں کیلئے اپنا ہی وطن اچانک اجنبی دیس ہوگیا۔
تقسیم کے المیے نے ان کی دہلیز پر دستک دے دی تھی اور انہیں موت یا ہجرت میں سے ایک کا انتخاب کرنا تھا۔ زندگی سے پیار، وطن سے محبت پر بازی لے گیا سو وہ سسکیوں اور آہوں کیساتھ اپنے اجنبی دیس سے کسی نامعلوم منزل کی جانب کوچ کر گئے۔ ایشر سنگھ کی یہ کہانی سنانے کیلئے لیکن راول گاؤں کے تین مندر باقی رہے۔ ان میں سے ایک کا نام گروکل تھا جسے ساٹھ کی دہائی میں راول ڈیم کی تعمیر کے دوران راول جھیل کھا گئی۔

دوسرا مندر ایک کشمیری مہاجر خاندان کی پناہ گاہ بن گیا۔ اس کے محراب 1980 تک قائم رہے پھر گردش زمانہ کی نذر ہو گئے۔ تیسرا کرشن مندر اب بھی موجود ہے لیکن اس کی خستہ حال عمارت اپنی آخری سانسیں لے رہی ہے۔ یہ مندر کب تعمیر ہوا کوئی نہیں جانتا لیکن متروکہ وقف املاک بورڈ کے کلرک بابوؤں نے سرکاری فائلوں کا پیٹ بھرنے کی خاطر اس کا سنِ تعمیر 1883 لکھ رکھا ہے۔ ان فائلوں کے مطابق یہ مندر 1935 میں آباد ہوتا تھا لیکن اس بارے میں کوئی دستاویز موجود نہیں جو یہ بتا سکے کہ آخری بار کب کسی پجاری نے اس مندر کی گھنٹی بجائی تھی۔

ویسے بھی اسکی ضرورت نہیں کیونکہ یہ سب کو معلوم ہے۔ گم گشتہ ماضی کی یادیں اپنے دامن میں سمیٹے آج بھی کرشن مندر اپنی خستہ حالی کے ساتھ راول جھیل کے کنارے دنیا و مافیھا سے بے نیاز شائد نروان حاصل کرنے کے انتظار میں کھڑا ہے۔ کوئی دن ہو گا کہ اس کا نشان بھی مٹ جائے گا۔
Wonderful article . Superb narration with the touch of history.