اسلام آباد(عمران مگھرانہ)پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا جس میں چیئرمین پی اے سی نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی جانب سے ساڑھے 3برسوں میں ریکور ی کی تفصیلات کمیٹی میں پیش کیں اور کہا کہ نیب نے جو ریکوریاں کی تھیں ان میں زیادہ تر پیسہ عوام کا تھا جو انہیں واپس چلا گیااور قومی خزانے میں بہت تھوڑی رقم جمع ہوئی ہے۔نیب نے قیام سے لیکر 2021 تک 821 ارب57کروڑ روپے کی ریکوری کی تھی جبکہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ساڑھے 3برسوں میں 544ارب روپے کی ریکوری کی ہے۔ چیئرمین پی اے سی رانا تنویر نے آڈٹ حکام کو بھی شاباش دی۔دستاویزات کے مطابق پی اے سی نے 544ارب48کروڑ روپے کی ریکوری کی ہے۔وفاقی محکموں سے 21دسمبر 2018سے لیکر جنوری2021تک 461ارب روپے سے زائد کی ریکوری کی گئی۔وفاقی محکموں سے جولائی2021ء میں 13ارب 70کروڑ روپے کی ریکوری کی گئی۔وفاقی محکموں سے اگست2021ء میں 3ارب 7کروڑ روپے کی ریکوری کی گئی۔وفاقی محکموں سے ستمبر2021ء میں 33کروڑ روپے کی ریکوری کی گئی۔ وفاقی محکموں سے اکتوبر2021ء میں 8ارب 60کروڑ کی ریکوری کی گئی۔ وفاقی محکموں سے نومبر2021ء میں 4ارب 79کروڑ، دسمبر2021ء میں 45ارب 60کروڑ روپے، جنوری2022ء میں 6ارب 96کروڑ روپے کی ریکوری کی گئی۔