دبئی (نیوز ڈیسک )متحدہ عرب امارات میں بھکاریوں کے منظم گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کی جارہی ہے جبکہ انہیں ملک سے ڈی پورٹ کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے تاہم اس دوران یو اے ای کے سرکاری استغاثہ نے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر آگاہی فراہم کرتے ہوئے بھکاریوں اور منظم طور پر بھیک مانگنے کے جرم کی سزاؤں کی وضاحت کر دی ہے ۔
متحدہ عرب امارات کی نیوز ایجنسی وام کے مطابق سرکاری استغاثہ نے بتایا کہ سنہ 2021 کے جرائم اور تعزیرات سے متعلق وفاقی حکم نامے کے قانون نمبر31 کے آرٹیکل 476 اور477 کے مطابق کوئی بھی شخص جو 2 یا اس سے زیادہ افراد کے منظم گروپ کے ساتھ بھیک مانگنے کا اہتمام کرتا ہے اسے کم سے کم 6 ماہ قید کی سزا اور کم سےکم1 لاکھ درہم کاجرمانہ کیا جائے گا۔
اسی طرح جو بھی لوگوں کو منظم بھیک مانگنے کے جرم میں استعمال کرنے کے لیے ملک میں لاتا ہے اس پر بھی یہی سزا اورجرمانہ عائد کیا جائے گا۔کوئی بھی شخص جو منظم طور پر بھیک مانگنے میں شریک ہوتا ہے اسے زیادہ سے زیادہ 3 ماہ قید اور5 ہزار درہم جرمانہ یا ان دونوں میں سے ایک کی سزا دی جائے گی ۔
اگر منظم بھیک مانگنے کا مرتکب شخص بھکاریوں کا سرپرست، ٹرسٹی یا ان کی دیکھ بھال کا ذمہ دار ہو یا اس پربراہ راست اختیار رکھتا ہو تواسے سنجیدہ اورسنگین جرم سمجھا جائے گا۔





