اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) کینیاکی ہائیکورٹ نے پاکستانی صحافی ارشد شریف کا قتل غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیدیا۔ عدالت نے ارشد شریف شہید کے اہلخانہ کو 2 کروڑ 17 لاکھ ہرجانہ دینے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ ارشد شریف کا قتل ’شناخت میں غلطی کا نتیجہ نہیں تھا۔ کینین ہائیکورٹ نےگولی چلانے والے پولیس افسران و اہلکاروں کے خلاف فوجداری کارروائی کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست میں جن حکومتی اداروں کا نام لیاگیا وہ اپنی ذمہ داری سے فرار اختیار نہیں کرسکتے۔ واضح رہے کہ 23 اکتوبر 2022 کو کینیا کے شہر نیروبی میں مگاڈی ہائی وے پر پولیس نے ارشد شریف کو سر پر گولی مار کر قتل کیا تھا۔ بعدازاں کینیا کی پولیس کی جانب سے واقعہ غلط شناخت قرار دیا گیا تاہم ارشد شریف کے قتل کیس کی تحقیقات میں کینیا پولیس کے مؤقف میں تضاد پایا گیا۔ کیس میں پولیس کا ابتدائی مؤقف تھا کہ وہ مغوی بچے کی بازیابی کیلئے یہاں موجود تھے تھا جب کہ مقامی تفتیش کاروں کا کہنا تھا کہ جس طرح گاڑی پرگولیاں لگی ہیں اس سے لگتا نہیں ہے کہ یہ چلتی گاڑی پر ماری گئی ہیں۔ دوسری جانب واقعے کے وقت ارشد شریف کی کار چلانے والے خرم کے مطابق وہ جائے وقوعہ سےآدھے گھنٹے کی مسافت پر ٹپاسی کے گاؤں تک گاڑی لے گئے تھے۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس اکتوبر میں کینیا کی ایلیٹ پولیس یونٹ کے خلاف 2022 میں نیروبی میں قتل کیے گئے پاکستانی صحافی کے کیس میں ٹرائل کا آغاز ہوا تھا۔
ارشد شریف کو 2022 اکتوبر میں اس وقت قتل کیا گیا تھا جب وہ ایک اور پاکستانی شہری کے ہمراہ کار میں نیروبی کے باہر ایک چیک پوائنٹ سے گزر رہے تھے جہاں پولیس نے ان پر فائرنگ کردی تھی۔
اس وقت نیروبی پولیس نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ارشد شریف کو غلط شناخت پر گولی لگی جب اسی طرح کی ایک اور کار کی تلاش کی جا رہی تھی جو کہ بچے کے اغوا میں ملوث تھی۔
لیکن بعدازاں پاکستانی تفتیش کاروں کی ایک ٹیم نے کہا تھا کہ ارشد شریف کی موت منصوبہ بندی کے ساتھ کیا گیا قتل تھا۔
کینیا کی پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ ارشد شریف نیروبی کے باہر پولیس چیک پوسٹ پر نہیں رکے تھے لیکن ان کے اہل خانہ اور پاکستانی تفتیش کاروں نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ارشد شریف کے قتل کا منصوبہ پاکستان میں بنایا گیا تھا۔





