اسلام آباد (رافعہ زاہد سے )سینئر صحافی حامد میر نے اپنے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان سے سوال کیا کہ پی ٹی آئی کو عدالت سے جلسہ کرنے کی اجازت مل گئی مگر ایڈمنسٹریشن سے اجازت نہ مل سکی اور جلسہ موخر کر نا پڑا دوسری طرف ایک جماعت ( ٹی ایل پی ) کا کیس حال ہی میں سپریم کورٹ میں آیا اور اس جماعت بارے فیض آباد دھرنا کیس میں سپریم کورٹ کافیصلہ بھی آیا مگر اس جماعت نے ایڈمنسٹریشن سے اجازت تک لینا ضروری نہیں سمجھا اور فیض آباد میں فلسطین کے حق میں دھرنا دیدیا ، کیا فیض آباد پر دھرنا دینے والی جماعت تحریک انصاف سے زیادہ طاقتور ہے یا ان کے پاس سٹریٹ پاور زیادہ ہے ؟ بیرسٹر گوہر کا اس سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ ہمارے پاس سٹریٹ اور ووٹ پاور دونوں موجود ہیں ۔ ٹی ایل پی نے فیض آباد پر دھرنا دے دیا لیکن ہم دھرنوں کی طرف نہیں جائیں گے ۔ ہم نہیں چاہتے جس طریقے سے منصوبہ سازی ہورہی ہے، جیسے پہلے بھی فالس فلیگ آپریشن جاری ہے اس لیے بہت محتاط ہیں کہ عدالت کے ذریعے ہمیں جلسہ کرنے کی اجازت مل جائے۔
گوہر خان کا کہنا تھا کہ ٹی ایل پی نے فیض آباد پر دھرنا دے دیا لیکن ہم دھرنوں کی طرف نہیں جائیں گے کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ بڑے پیمانے پر جلسہ ہو۔ اس معاملے میں عمران خان کی رائے بھی یہی ہے کہ پی ٹی آئی کو ہائی کورٹ سے جلسہ کیلئے این او سی مل جائے اور این او سی ہمیں مل جائے گا۔
گوہر خان نے کہا کہ موجودہ حکومت کی جانب سے تحریک انصاف کو جلسوں کی اجازت نہیں دی جارہی۔ جس کی وجہ سے تحریک انصاف کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ، جب کورٹ کی طرف سے اجازت ملتی ہے تو انتظامیہ بیچ میں روڑے اٹکا دیتی ہے کہ کسی طرح جلسہ نہ کیا جائے۔
بیرسٹر گوہر علی خان نے مزید کہا کہ یہ ہمارا آئینی حق ہے اور ہم نے جلسہ کرنے کے لیے جگہیں بھی وہی بتائیں جہاں ہم نےپہلے سے جلسے کئے ہیں۔ پہلے انتظامیہ نے ہمیں جلسے کی اجازت دے دی تھی اور کہہ رہے تھے روات میں جلسہ کرو تاہم روات میں ہم جلسہ نہیں کرنا چاہ رہے تھے کیونکہ وہ جگہ بہت تھوڑی تھی اس لیے ہم سوات کی جانب جلسے کے لیے گئے۔اس دفعہ 6 جولائی کو ہم نے جگہ مانگی اور انہوں نے آخری مرحلے میں کینسل کر دیا اگر یہ جلسہ ہوتا تو یہاں لاکھوں کی تعداد میں لوگ آتے۔ اب ہم نے ہائی کورٹ میں پٹیشن فائل کی ہے۔ہم نے محرم کے بعد کا کہا ہے لیکن پی ٹی آئی شاید 27 جولائی تک جلسہ کرے گی ۔





