اسلام آباد (رافعہ زاہد ) اسلام آباد کی رہائشی نور مقدم کے قتل کو اب تین سال گزر چکے ہیں۔۔نُور مقدم قتل کیس میں کیا ہوچکا ہے؟؟ آگے کیا متوقع ہے؟؟ نُور مقدم کے وکیل شاہ خاور قتل کیس کی تازہ ترین تفصیلات منظر عام پر لے آئے ہیں۔
نُور مقدم جو 20 جولائی 2021 کو اسلام آباد میں قتل کر دیا گیا تھا۔نُور مقدم قتل کیس کو اب تین سال گزر چکے ہیں۔ جہاں اس قتل کیس سے متعلق متعدد شواہد نظر آئے ہیں وہیں متعدد سوالات ایسے ہیں جن کے جوابات جاننا ضروری ہیں۔
نور مقدم کے قتل کی ایف آئی آر نور کے والد اور سابق سفیر شوکت مقدم کی مدعیت میں درج کروائی گئی تھی۔ جس میں مقتولہ کے دوست ظاہر جعفر کو نامزد کیا گیا تھا۔سوال تو یہ ہے کہ اب تک نور مقدم قتل کیس میں کیا ہو چُکا ہے؟پولیس اور پراسیکشن کے مطابق جب ظاہر جعفر کو گرفتار کیا گیا تب ان کی ذہنی حالت پوری طور پر نارمل تھی اور اپنے پورے ہوش و حواس میں تھے۔نور مقدم قتل کے بعد ظاہر جعفر کے خلاف مقدمہ درج ہوا اور اسی دوران عدالت میں ایک سی سی ٹی وی فوٹیج بھی پیش کی گئی جس میں نور مقدم کو پہلی منزل سے چھلانگ لگاتے اور دروازے کی طرف بھاگتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جہاں سے انہیں گھر واپس لایا جاتا ہے۔عدالت میں پیش کیے شواہد کے مطابق نور مقدم کو ٹارچر، ریپ اور پھر قتل کیا گیا۔
وکلا نے عدالت کو بتایا کے ظاہر جعفر نے نور مقدم کو دو روز تک نہ صرف گھر میں قید رکھا بلکہ ان کا قتل کرنے سے پہلے ریپ بھی کیا۔ جس کے بعد ظاہر جعفر کو لوؤر کورٹ کی جانب سے سزائے موت سنائی گئی تھی، جب کہ ٹرائل کورٹ نے ظاہر جعفر کو 25 سال قید بامشقت اور دو لاکھ روپے جرمانہ، اغوا کا جرم ثابت ہونے پر دس سال قید بھی سُنائی تھی۔
اب اگلا اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اس وقت ظاہر جعفر پر کون سے کیسز چل رہے ہیں؟نور مقدم کے وکیل شاہ خاور کے مطابق انہوں نے ہائی کورٹ میں اپیل درج کروائی تھی جس کے نتیجے میں ہائی کورٹ نے ریپ کیس میں بھی ظاہر جعفر کو سزائے موت سنائی ہوئی ہے۔
ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے بعد ظاہر جعفر کے وکیل ایک سال پہلے سپریم کورٹ چلے گئے جہاں انہوں نے بریَت کی اپیل درج کی ہوئی ہے۔ یہ اپیل ابھی تک نہیں لگی ہے کیونکہ اس اپیل کا نمبر خاصہ پیچھے ہے اور اس اپیل کے نمبر آنے میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔نور مقدم کے وکیل شاہ خاور نے بتایا کہ ظاہر جعفر کے وکلاء کی کوشش ہے کہ ان کی موت کی سزا کو کم کروا کر، lesser پنشمنٹ سنا دی جائے۔ تاہم نور مقدم کے وکیل نے اس کیس کی جلد سماعت کی درخواست دی ہوئی ہے جو منظور ہونے کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کے پاس جائے گی۔ جبکہ ظاہر جعفر کے وکلاء کی کوشش ہے کہ کسی طرح ان کی پیٹیشن منظور کروا لی جائے۔
کیا ظاہر جعفر کو بیرون ملک بھیجا جاسکتا ہے؟
وکلاء کے مطابق ایسا ممکن نہیں ہے۔جہاں تک کسی بھی مجرم کی دماغی صورتحال کا تعلق ہے تو اس کا تعین بھی میڈیکل بورڈ کر سکتا ہے۔ ظاہر جعفر کی طبی معائنے کی درخواست پہلے ہی مسترد ہو چکی ہے۔ امریکی نیشنل ہونے سے امریکی سفارتخانہ اپنے شہری کی مزاج پُرسی تو کر سکتا ہے لیکن مقدمہ اور اس کے نتیجے پر ہاوی نہیں ہوسکتا ہے۔ وکیل شاہ خاور کے مطابق یہ ایک بے بنیاد خبر ہے جس میں کوئی حقیقت نہیں۔واضح رہے کہ اس وقت ظاہر جعفر جیل میں ہے۔





