واشنگٹن (مہر خان سے ) امریکی کانگریس کی ہاؤس اوور سائٹ کمیٹی کے سامنے سیکرٹ سروس ڈائریکٹر کمبرلی چیٹل کو سخت سوالات کا سامنا ۔ تفصیلات کے مطابق ساؤتھ کیرولائنا کی نمائندہ نینسی میس کی جانب سے ڈائریکٹر چیٹل سے متعدد سوالات کیے جن کے جواب صرف ‘ہاں’ یا ‘نہیں’ میں دیے جانے تھے۔
نینسی میس نے ڈائریکٹر چیٹل سے پوچھا کہ کیا وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہونا چاہیں گی؟ جس پر چیٹل نے ‘نہیں’ میں جواب دیا۔ میس نے پھر سوال کیا کہ کیا یہ ایک بڑی ناکامی تھی؟ چیٹل نے اس کا جواب ‘ہاں’ میں دیا۔ میس نے مزید پوچھا کہ کیا یہ واقعہ روکا جا سکتا تھا؟ چیٹل نے اس کا جواب بھی ‘ہاں’ میں دیا۔
نینسی میس نے ایک اور سوال کیا کہ کیا سیکرٹ سروس اس کمیٹی کے ساتھ مکمل شفافیت کے ساتھ تعاون کر رہی ہے؟ چیٹل نے جواب دیا کہ ہاں، مگر میس نے اصرار کیا کہ چیٹل کے بیانات شفافیت کے معیار پر پورا نہیں اترتے۔
محترمہ میس نے سیکرٹ سروس کی جانب سے کمیٹی کو معلومات فراہم نہ کرنے پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی نے 15 جولائی کو معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا، لیکن ابھی تک مکمل معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔
محترمہ میس نے چیٹل سے پوچھا کہ کیا سیکرٹ سروس نے تمام ویڈیو اور آڈیو ریکارڈنگز فراہم کی ہیں؟ چیٹل نے کہا کہ وہ اس بارے میں بعد میں معلومات فراہم کریں گی، جس پر میس نے کہا کہ یہ جواب ‘نہیں’ ہے اور یہ کہ چیٹل کمیٹی کے سامنے ایماندار نہیں ہیں۔
میس نے چیٹل سے یہ بھی پوچھا کہ کیا سیکرٹ سروس نے اس دن کی تمام یادداشتیں فراہم کی ہیں؟ جس پر چیٹل نے پھر سے کہا کہ وہ اس بارے میں بعد میں معلومات فراہم کریں گی۔ میس نے کہا کہ یہ بھی ‘نہیں’ میں جواب ہے اور چیٹل کمیٹی کے ساتھ تعاون نہیں کر رہیں۔
اس دوران چیٹل نے کہا کہ ان کے پاس ابھی تک تمام جوابات نہیں ہیں اور وہ وقت کی تصدیق کر رہی ہیں۔ محترمہ میس نے کہا کہ یہ ناکامی تربیت کی تھی یا عمل درآمد کی یا دونوں کی؟ چیٹل نے کہا کہ یہ دونوں کی ناکامی تھی۔
نینسی میس کے سوالات اور چیٹل کے جوابات نے کانگریس کمیٹی کے اراکین کو مزید غصہ دلایا اور انہوں نے مطالبہ کیا کہ سیکرٹ سروس ڈائریکٹر کو مستعفی ہونا چاہیے تاکہ ایجنسی میں شفافیت اور جوابدہی قائم کی جا سکے۔
واضح رہے کہ ٹرمپ پر 13 جولائی کو ہونے والے قاتلانہ حملے میں سکیورٹی کی ناکامی پر امریکی سیکرٹ سروس کو شدید تنقید کا سامنا ہے جبکہ سیکرٹ سروس کی ڈائریکٹر کمبرلی چیٹل
کے 29 سالہ سیکرٹ سروس کیریئر میں یہ پہلا موقع ہے کہ وہ امریکی ایوان کے سامنے پیش ہوئی ہیں۔
کیا پاکستانی سینٹ یا قومی اسمبلی میں ایک بھی ایسی خاتون ممبر پارلیمنٹ ہے جو اس امریکن کانگریس ویمن کی طرح (جس نے امریکن سیکریٹ سروس سربراہ سے سیدھا استحفی مانگا)، وہ بھی پاکستان میں کسی سول ملٹری ادارے کے سربراہ سے ان کی اپنی ڈیوٹی میں ناکامی پر استحفی مانگنا تو چھوڑیں، اتنے سخت… pic.twitter.com/n4SgTg5uWu
— Rauf Klasra (@KlasraRauf) July 23, 2024





