اسلام آباد (رافعہ زاہد سے ) ٹیکنیکل کمیٹی کا نتیجہ کیا نکلا،حکومت نے مطالبات مان لیے؟تحریک انصاف کیساتھ جماعت اسلامی کا ڈائیلاگ طے پا گیا؟سیکریٹری جنرل، جماعت اسلامی کی حکومت کو وارننگ۔ ہم نیوز کے پروگرام نیوز لائن میں گفتگو کرتے ہوئے جماعت اسلامی سیکریٹری جنرل امیر العظیم نے بیان دیا کہ حکومتی مذاکرات کے پہلے ادوار کے اندر حکومت نے اصولی طور پر ہماری چیزوں سے اتفاق کیا تھا جس کے بعد حکومت نے کہا ہمارے پاس کوئی فسکل سپیس نہیں ہے، ہمیں کوئی راستہ نظر نہیں آتا اور کہا آپکی ڈیمانڈ جینوئن ہے۔
جماعت اسلامی سیکریٹری جنرل نے اپنی گفتگو کا سلسلہ جاری رکھتے ہو ئے کہا پھر ایک ٹیکنیکل کمیٹی کو تشکیل دیا گیا اس کمیٹی میں بھی ہماری تمام چیزوں سے اتفاق کر چکے ہیں۔
امیر العظیم نے بیان دیا نتیجہ نکل چُکا ہے کہ بجلی کی لاگت کم ہوسکتی ہے،یہ حکومت مان گئی ہے کہ آئی پی پیز کے کپئسٹی سرچارجز کے اوپر فورنزک آڈٹ ہوسکتا ہے اور دوبارہ سے بات چیت ہوسکتی ہے۔حکومت مان گئی ہے پرائیویٹ اور پبلک سیکٹر کی سیلری پر ٹیکس سلیب لگایا گیا وہ ختم ہوسکتا ہےیہ کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے۔
جماعت اسلامی سیکریٹری جنرل نے بتایا کہ صرف ایکسپورٹ کے معاملے پر حکومت جانب سے تحفظات آئے ہیں۔
ٹیکنیکل کمیٹی میں حکومتی وزراء کی شرکت سے متعلق سوال پر امیر العظیم نے کہا کہ ٹیکنیکل کمیٹی بیوروکریٹ، ایف بی آر، پاور ڈویژن کے نمائندوں پر مشتمل ہیں۔ٹیکنکل کمیٹی میں ہم نے کوئی مطالبہ نہیں کیا کہ کوئی مخصوص شخصیت ہو۔
جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیر العظیم نے دو ٹوک بیان دیا کہ اب مسئلہ یہ ہے کہ اگر حکومت کو لگتا ہے کہ ہم کمیٹی کمیٹی کھیل لیں گئے اور جماعت اسلامی کا دل بہلا لیں گے اور ٹال دیں گئے تو ہم ٹال مٹول کے لیے تو نہیں آئے ہیں، ہم یہاں ٹلی بجانے کے لیے آئے ہیں اور اسکا مطلب یہ ہے کہ پھر چُھٹی کی جائے۔یعنی مُراد یہ ہے کہ حکومت کو ہر صورت ان مطالبات کو ماننا پڑھے گا، عوام کو ریلیف دینا ہوگا۔
سیکریٹری جنرل، جماعت اسلامی نے حکومت کو خبر دار کیا کہ اگر ہمارے مطالبات نہیں مانے گئے تو ہم یہ تحریک ختم نہیں کریں گئے، اگلے مرحلے میں پورے ملک میں پھیلائیں گئے۔یہ صرف ڈی چوک کا مسئلہ نہیں ہے، ہم پورے ملک کی عوام کو لے کر اس تحریک کو چلائیں گئے۔
ٹائم فریم حکومت کے رد عمل پر ہے، دو دن اور انتظار کر لیں گے، ہم بیٹھے ہوئے ہیں۔حکومت جلدی مچا رہی ہے کہ یہ دھرنا ختم ہونا چاہیے، تو یہ ان پر منحصر ہے، بیشک مطالبات قبول کرنے سے متعلق ہمارے ساتھ معاہدہ بھی نہ کریں صرف ایک واضح نوٹیفکیشن جاری کر دیں ۔
پی ٹی آئی وفد کی راولپنڈی دھرنے میں شرکت سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا وفد صرف شرکت کے لیے آج آیا تھا اور وہ شریک ہوگیا انہوں نے گفتگو بھی کی۔اس سے قبل ہمارا پی ٹی آئی کے ساتھ ڈائیلاگ ہوگیا ہے اور اس میں کہ اپنے اپنے پلیٹ فارموں پر جدوجہد رہے گی لیکن ایک دوسرے کے دھرنوں،سیمیناروں اور جلسوں میں جائیں گئے۔





