اسلام آباد (رافعہ زاہد سے ) فوج کو جنرل فیض کیخلاف ناقابل تردید شواہد یقیناً مل گئے۔۔کورٹ مارشل کی تحقیقات کا طریقہ کار کیا ہوگا۔۔مالی بےضابطگیوں کی وصولی۔۔فوج کی جانب سے دی گئیں مرعات کی واپسی۔۔عہدے سے برطرفی۔۔جنرل فیض کو کس صورت قید بامشقت ہوسکتی ہے۔۔؟ سینئر دفاعی تجزیہ کار ڈاکٹر ماریہ سلطان نے اندرونی خبر بتا دی
ایک نیوز کے پروگرام بریکنگ بیریئرز ود مالک میں سینئر دفاعی تجزیہ کار ڈاکٹر ماریہ سلطان سے سوال ہوا کہ کیا جنرل (ر) فیض حمید کی گرفتاری اور کورٹ مارشل کرنے سے ایک پیغام دیا گیا ہے جس پر ان کا کہنا تھا کہ پچھلے کچھ عرصے سے پاکستان اور افواج پاکستان پر بہت سیاست کی جارہی ہے اوریہی وجہ ہے کہ افواج پاکستان کا نام بہت سارے معاملوں میں دھکیلا جاتا ہے۔
انہوں نے پروگرام میں مزید گفتگو کرتے ہوئے بیان دیا معتدرد عہدوں کو بھی متنازع بنایا گیا ہے اور جب آپ پانچویں درجہ جنگ کی بات کرتے ہیں تو ملکی عہدوں،ملکی سالمیت اور ملکی مستقبل پرحملہ کیا جاتا ہے، اس لیے اس سے متعلق فیصلہ ہوسکتا ہے۔ آج کا فیصلہ یقیناً ایک مشکل مگر ایک اہم فیصلہ ہے
ڈاکٹر ماریہ سلطان نے مزید بیان دیا کہ آج کے فیصلے کے پیچھے دو تین محرکات ہیں۔پہلا یہ کہ فوج کا واضح پیغام ہے اگر کوئی قومی سلامتی کے معاملات کو ذاتی مفادات کے لیے پس پشت ڈالتے ہیں توایسے افراد کے خلاف شواہد بھی موجود ہوں گئے، نہ صرف ان کے خلاف قانون حرکت میں آئے گا۔
دوسری بات، سپریم کورٹ نے اس انکوائری کا مینڈیٹ دیا ہےتو اس کے اندر آپ دیکھتے ہیں ریاست کے ایک نہیں دو ادارے ہیں اور تیسرا ان کے پاس حق حاصل ہے کورٹ مارشل کے حوالے سے،اگر انکے پاس شواہد موجود ہیں تو وہ الزامات کی تردید کرے اور اگر وہ کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو عمل واضح ہوجائے گا۔
سینئر دفاعی تجزیہ کار نے اہم بیان دیا کہ کورٹ مارشل کی شروعات کے لیے بہت ضروری ہے کہ انکوائری ہو، اور انکوائری کی بنیاد پر فیصلہ کیا جاتا ہے کہ آیا کے ان کے خلاف کوئی کورٹ مارشل ہوسکتا ہے یا نہیں۔مزید اگر انکوائری رپورٹ میں شواہد موجود ہوتے ہیں اس کے بعد کاروائی کا عمل شروع ہوتا ہے، یہ فرق ہے آرمی کورٹ کا دوسری کورٹ سے۔
اپنی گفتگو کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس تحقیقات میں دو تین چیزیں ہوسکتی ہیں،ایک جرم نوعیت دیکھی جائے گی، اگر مالی بےضابطگی ہوگی تو وہ واپس ریکور کیے جاسکتے ہیں، اس کے علاوہ ان کے عہدہ جا سکتے ہیں بطور لیفٹیننٹ جنرل جو فوج کی جانب سے مرعات دی جاتی ہیں، وہ ان سے لی جاسکتی ہیں اس کے علاوہ ان کو قید بامشقت بھی ہوسکتی ہے۔اب یہ سب انحصار کرتا ہے کس نوعیت کا جرم کیا گیا اور شواہد کیا ہیں اور تقریباً تین سے چھ ماہ اس کورٹ مارشل کے عمل میں لگ سکتا ہے۔
پروگرام کے آخر میں ان کا کہنا تھا کہ جنرل فیض کے خلاف ناقابل تردید شواہد یقیناً مل گئے ہیں جس کی وجہ سے ان کے خلاف کورٹ مارشل کیا گیا۔





