اسلام آباد (مہر خان سے )جہاں سپریم کورٹ کہے گی وہاں فوج کو رکنا پڑے گا، سینئر قانوندان اعتزاز احسن نے ایک ٹاک شو میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے خلاف ملٹری کورٹس میں مقدمہ چلانے کے حوالے سے اہم رائے کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے اس وقت کے فیصلے کے مطابق شہریوں پر فوجی عدالتوں میں مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا، اور جب کوئی ریٹائر ہوتا ہے تو وہ شہری بن جاتا ہے، حالانکہ کچھ معاملات میں وہ فوجی قوانین کے تحت رہتا ہے جیسے پنشن اور دیگر مراعات۔
اعتزاز احسن نے وضاحت کی کہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کا موقف یہ ہے کہ فوجی عدالتوں کے ذریعے شہریوں کے خلاف کارروائی نہیں کی جا سکتی۔ جب پانچ ججوں نے اس حوالے سے فیصلہ دیا تو فوجی عدالتوں کا اختیار ختم ہو گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ فوج اور حکومت نے سپریم کورٹ کے بڑے بینچ کے سامنے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی۔ یہ کیس اب سات رکنی بینچ کے سامنے ہے۔ فوج نے عدالت سے درخواست کی کہ انہیں اجازت دی جائے کہ وہ ملٹری کورٹ میں کاروائی جاری رکھ سکیں، لیکن فیصلہ سنانے سے روکا گیا ہے۔
سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ ملٹری کورٹ میں کارروائی تو جاری رکھی جا سکتی ہے، لیکن فیصلہ سنانے کا حق نہیں دیا گیا۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ جہاں سپریم کورٹ کہے گی، فوجی عدالتوں کو رکنا پڑے گا، اور جہاں عدالت لائن کھینچے گی، وہاں کارروائی روکنی پڑے گی۔




