اسلام آباد (رافعہ زاہد ) جنرل فیض کے فوج اور آرمی چیف کیخلاف سوشل میڈیا پر ہرزہ سرائی اور وپیگنڈے میں ملوث ہونے کے امکانات۔۔ جنرل فیض سے ریٹائرمنٹ کے بعد جرم سرزد ہوا ہے جو وہ اکیلے نہیں کر سکتے،کسی کے ساتھ مل کر کیا۔۔جس کے ثبوت یقینا موجود ہیں۔۔شریک جرم کے کورٹ مارشل کی گنجائش بھی قانون میں موجود۔۔۔رانا ثنا اللّٰہ کا تہلکہ انگیز انکشافات۔
ہم نیوز کے پروگرام “فیصلہ آپ کا ہے” میں مُشیر وزیر اعظم پاکستان رانا ثناء اللّٰہ خان نے جنرل فیض کی گرفتاری سے متعلق بڑا انکشاف کر دیا۔ مُشیر وزیر اعظم رانا ثناء اللّٰہ کا کہنا تھا کہ امکان ہے کہ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید فوج اور آرمی چیف کے خلاف سوشل میڈیا پر ہرزہ سرائی اورپروپیگنڈے میں ملوث پائے گئے ہوں کیونکہ کچھ ہاتھ منظم انداز سے اس پروپیگنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ ایک تھری اسٹار سابق جنرل جو ڈی جی آئی ایس آئی رہا ہو کی گرفتاری غیر معمولی بات ہے،سرکاری طور پر بتایا گیا ہے کہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد ایسی سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں جو آرمی ایکٹ کی خلاف ورزی ہے۔
رانا ثنا اللّٰہ نے مزید کہا کہ جب میں وزیر داخلہ تھا تو باخبر حلقے کہتے تھے کہ عمران خان کا لانگ مارچ اور دھرنا آرمی چیف کی تقرری کے معاملے پر ہے جو اس وقت آرمی چیف کی سیٹ کے امیدوار جنرل فیض حمید کیلئے دباؤ بڑھانے کے لیے ہوتا رہا مگر اس کی کوئی انکوائری نہیں ہوئی۔فوج اپنی انکوائری مکمل کرنے کے بعد اس ایکشن تک پہنچی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر جنرل فیض حمید سے ریٹائرمنٹ کے بعد جرم سرزد ہوا ہے تو پھر وہ جرم جنرل فیض اکیلے نہیں کر سکتے، کسی کے ساتھ مل کر کیا ہو گا جس کے ثبوت یقینا موجود ہیں، شریک جرم کے کورٹ مارشل کی گنجائش بھی قانون میں موجود ہے۔آج تک سنگین غداری سے کم کسی جرم میں اتنے بڑے افسر کو ہاتھ نہیں ڈالا گیا، جب ایسا ہوا ہے تو ضرور کچھ بڑے شواہد موجود ہیں۔
مُشیر وزیر اعظم نے ججز کی مدت ملازمت میں توسیع پر قانون سازی کا معاملے پر بیان دیا کہ آئین میں پارلیمان کے پاس کسی قسم کی ترمیم کا اختیار ہے، چاہے وہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی تقرری ہو، عمر کا معاملہ یا کچھ اور۔سپریم کورٹ کے پاس پارلیمان کے کسی بنائے گئے قانون کو اسٹرائیک ڈاؤن کرنے کا اختیار نہیں چاہے وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہی کیوں نا ہو۔ پارلیمان سپریم کورٹ کے ماتحت نہیں۔
انہوں نے جسٹس منصور علی شاہ سے متعلق بیان دیا کہ جسٹس منصور علی شاہ نے جس طرح کہا ہے کہ حکومت کے پاس کوئی چوائس نہیں ہے کہ عدالت کے فیصلے پر عمل نا کیا جائے اسی طرح سے عدالت کے پاس بھِی کوئی چوائس نہیں ہے کہ وہ آئین اور قانون پر عمل نا کرے۔ یہ پارلیمان کا اختیار ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ کون سی چیز آئین کے مطابق ہے اور کون سی متصادم،ججز کو جلدی نہیں کرنی چاہیے، توازن سے کام لیں۔
رانا ثناء اللہ نے پروگرام کے آخری حصے میں بیان دیا کہ حکومت عمران خان سے پہلے بھی بات کرنے کو تیار تھی آج بھی تیار ہیں۔قومی حکومت کی کوئی گنجائش نہیں،قومی اسمبلی، پارلیمنٹ موجود ہے، جس کی اکثریت ہو گی وہ حکومت بنائے گا۔





