اسلام آباد (رافعہ زاہد سے ) آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی شائع کردہ آڈٹ رپورٹ میں اسلام آباد کلب میں ان ہائوس اسکیموں پر خلاف ضابطہ 30 کروڑ روپے خرچ کرنے کا انکشاف ہوا۔ یہ اخراجات بغیر تخمینے اور پیمائش کے کیے گئے۔
اسلام آباد کلب کے کرکٹ گراونڈ کے ساتھ جھیل بنانے کی مد میں 1 کروڑ 44 لاکھ روپے کی بےقاعدہ ادائیگی کرنے کا انکشاف ہوا جبکہ کرکٹ گراونڈ پر فلڈ لائٹس لگانے کیلئے بغیر اوپن بڈنگ 1 کروڑ 61 لاکھ خرچ کیے گئے۔
آڈٹ رپورٹ میں اسلام آباد کلب کے ممبرز سے فیس کی مد میں 10 کروڑ 45 لاکھ کی عدم وصولی کا تہلکہ انگیز انکشاف ہوا۔
آڈٹ رپورٹ میں اسلام آباد کے ایلیٹ کلب میں سی ڈی اے سے بغیر ڈیزائن کی منظوری سول ورکس پر 9 کروڑ 36 لاکھ خرچ کیے گئے جبکہ دیگر ترقیاتی منصوبوں پرمزید ساڑھے 10 کروڑ روپے خلاف ضابطہ اخراجات کرنے کا پردہ چاک کیا۔
آڈیٹر جنرل نے سول ورکس کیلئے خریداری کو بھی خلاف ضابطہ قرار دیدیا۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق کلب میں کارپوریٹ ممبرشپ فیس کی مد میں ڈھائی کروڑ ریفنڈز کی خلاف ضابطہ ادائیگی کی گئی۔ مقابلے کے بغیر 44 لاکھ روپے میں کنسلٹنٹ کی خدمات لی گئیں۔
یاد رہے ایلیٹ کلب کی بنیادی ممبر شپ فیس تو 10 سے 35 لاکھ روپے ہے اور اسلام آباد کلب آمدن کے دیگرذرائع کے علاوہ 9 ہزار 815 ممبران سے صرف ماہانہ فیس کی مد میں 3 کروڑ 95 لاکھ اور سالانہ ساڑھے 47 کروڑ کماتا ہے۔





