اسلام آباد (نیوز ڈیسک) اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے گرفتار رہنماؤں کے جسمانی ریمانڈ کیخلاف درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے پی ٹی آئی جلسے کے بعد درج مقدمات اور گرفتاریوں کا معاملے پر گرفتار رہنماؤں کے جسمانی ریمانڈ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی درخواستوں پر سماعت کی۔
اس موقع پر پراسیکیوٹر جنرل عدالت میں پیش ہوئے، ملزمان کی جانب سے اسلام آباد بار کونسل کے وائس چیئرمین عادل عزیز قاضی اور راجہ حلیم عباسی ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی رہنماؤں کے جسمانی ریمانڈ کا فیصلہ کالعدم قراردینے کی درخواستوں پر سماعت کے دوران پراسیکیوٹر جنرل کے ایف آئی آر پڑھنے پر چیف جسٹس عامر فاروق نے دلچسپ ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ اس ایف آئی آر کا آتھر بھی دلچسپ ہے،یہ اسلام آباد پولیس ہے یا رضیہ؟جو غنڈوں میں پھنس گئی ہے،کریڈٹ دیناہوگا کہ بڑے عرصے بعد اچھی کامیڈی دیکھنے کو ملی ہے،جس نے بھی ایف آئی آر لکھی اس نے اچھی کامیڈی لکھی ہے۔
اسلام آبادہائیکورٹ میں گرفتار پی ٹی آئی رہنماؤں کے جسمانی ریمانڈ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی درخواستوں پر سماعت ہوئی،چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے سماعت کی،عدالت نے گرفتار پی ٹی آئی رہنماؤں کے جسمانی ریمانڈ کا فیصلہ معطل کررکھا ہے۔پراسیکیوٹر جنرل ،ملزمان کی جانب سے اسلام آباد کونسل کے وائس چیئرمین عادل عزیز قاضی،راجہ حلیم عباسی ایڈووکیٹ ،وکیل شہبازکھوسہ ،بیرسٹر تیمور ملک اور اسلام آباد پولیس کے افسران عدالت میں پیش ہوئے۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ جی تو سٹیٹ آ گئی ہے،میں نے دیکھا ہے جسمانی ریمانڈ کے تمام آرڈرز ایک جیسے ہی ہیں،سٹیٹ کو جواب دینے دیں کہ ایسا کیا ہوا کہ 8،8روز کا جسمانی ریمانڈ دیا گیا ، یہ تو ایسا عمل ہے جس کی کوئی مثال نہ ملتی ہو۔
پراسیکیوٹر جنرل نے ایف آئی آر پڑھ کرسنائی ،پراسیکیوٹر جنرل کے ایف آئی آر پڑھنے پر چیف جسٹس عامر فاروق نے دلچسپ ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ اس ایف آئی آر کا آتھر بھی دلچسپ ہے،یہ اسلام آباد پولیس ہے یا رضیہ؟جو غنڈوں میں پھنس گئی ہے،کریڈٹ دیناہوگا کہ بڑے عرصے بعد اچھی کامیڈی دیکھنے کو ملی ہے،جس نے بھی ایف آئی آر لکھی اس نے اچھی کامیڈی لکھی ہے۔
چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہاکہ شعیب شاہین پر پستول ڈال دی، کیا شعیب شاہین کو میں نہیں جانتا؟گوہر خان کا کہہ رہے ہیں کہ پستول نکال لی، گوہر کو آپ اور میں نہیں جانتے؟چیف جسٹس نے کہاکہ کامیڈی آپ نے پڑھ لی، اب ان سے کیا برآمد کرنا ہے؟پراسیکیوٹر جنرل اسلام آباد نے کہاکہ شعیب شاہین سے ڈنڈا برآمد ہوا،چیف جسٹس عامر فاروق کی بے ساختہ ہنسی نکل گئی،جس پر کمرہ عدالت میں قہقہے لگ گئے۔
پراسیکیوٹر جنرل اسلام آباد نے کہاکہ شیر افضل مروت سے پستول برآمد ہوا، چیف جسٹس نے کہاکہ 4روز ہو گئے ، آپ نے جو کرنا تھا کرلیا، 8دن کا ریمانڈ کیوں دیا گیا، 2دن کا دے دیتے ،کسٹڈی دی جاتی ہے لیکن حتمی طور پر کسٹڈی کورٹ کی ہی ہوتی ہے،چیف جسٹس عامر فاروق نے کہاکہ اس مقدمہ میں مضحکہ خیزقسم کے الزامات لگائے اور 8روز کا ریمانڈ دیدیا،اگر الزامات درست بھی مان لیں تو اس کا ایک طریقہ کار ہے،یہ سٹوری جس نے بنائی ہے مزیدار قسم کی کہانی ہے جس پر فلم بن سکتی ہے۔
عدالت نے پراسیکیوٹر جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جتنا تحمل کرتے ہیں مجھے معلوم ہے۔
پراسیکیوٹر جنرل اسلام آباد کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔
واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے گرفتار پی ٹی آئی رہنماؤں کے جسمانی ریمانڈ کا فیصلہ معطل کر رکھا ہے۔





