وزیر اعظم نے اپنے خطاب کا آغاز قرآن پاک کی آیات کی تلاوت سے کیا۔
وزیر اعظم نے اپنی تقریر کے آغاز میں غزہ میں جاری بدترین اسرائیلی جارحیت کی مذت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں مذمت سے آگے بڑھ کر اس جارحیت کو فوری روکنے کا مطالبہ کرنا چاہیے۔
شہباز شریف نے کہا کہ ہم فلسطین کی مقدس سرزمین پر ایک بڑا المیہ رونما ہوتے دیکھ رہے ہیں، فلسطینی بچے زندہ دفن ہورہے ہیں، جل رہے ہیں اور دنیا تماشائی بنی ہوئی ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ غزہ میں مصائب ختم کرنےکے لیےفلسطین کےدو ریاستی حل کی ضرورت ہے، فلسطین کو اقوام متحدہ کے مستقل رکن کی حیثیت فوری ملنی چاہیے۔
شہباز شریف نے کہا کہ غزہ کے بچوں کا خون صرف قابض فوج کے ہاتھوں پر نہیں ان پر بھی ہے جواس پر خاموش ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ اب لبنان میں اسرائیلی جارحیت شروع ہوگئی ہے، لبنان میں اسرائیلی جارحیت سے خطے میں بڑی جنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے مقبوضہ جموں و کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین کی طرح مقبوضہ کمشیر کے لوگ بھی عرصے سے آزادی کی جدوجہد کررہے ہیں، جموں و کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم بھی جاری ہیں، کشمیر میں قابض بھارتی فوج کے انسانیت سوز مظالم دنیا کی توجہ کے طلب گار ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ 5 اگست 2019 کو بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حثیت ختم کی مقبوضہ کشمیر میں باہر سے لوگوں کو لاکر آباد کیا جارہا ہے، بھارت مقبوضہ کشمیر میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کسی بھی بھارتی جارحیت کا فیصلہ کُن جواب دے گا خطے میں امن کے لیے بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں یکطرفہ اقدامات ختم کرنا ہوں گے۔





