ایران میں ایک خاتون کے ہاتھوں 11 شوہروں کو قتل کرنے کا لرزہ خیز واقعہ سامنے آیا ہے، جسے ملک کی تاریخ کا سب سے خوفناک سلسلہ وار قتل (Serial Murder) کیس قرار دیا جا رہا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق کلثوم اکبری نامی خاتون کو آج تہران کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں اس پر 11 قتل اور ایک اقدامِ قتل کا الزام عائد کیا گیا۔
عدالت میں انکشاف کیا گیا کہ اکبری کے جرائم کا سلسلہ سن 2000 میں شروع ہوا۔ وہ مبینہ طور پر بوڑھے مردوں کو نشانہ بناتی تھیں، ان سے شادی کرتیں، اور پھر آہستہ آہستہ انہیں زہر دے کر مار دیتیں۔ زہر دینے کے لیے وہ ذیابیطس کی دوائیں، محرکات (stimulants) اور بعض اوقات صنعتی الکحل کا استعمال کرتی تھیں۔
ملزمہ اپنے جرائم کے نشانات چھپانے میں ماہر تھی۔ زیادہ تر متاثرین کی موت عمر اور دائمی بیماریوں کی وجہ سے قدرتی معلوم ہوتی تھی، جس کی وجہ سے وہ دہائیوں تک بغیر شک کے قتل کرتی رہیں۔
ان کا آخری مبینہ شکار عزیزاللہ بابائی 2023 میں ہلاک ہوا۔ لیکن بابائی کے بیٹے کی طرف سے اٹھائے گئے شکوک و شبہات نے پولیس کو تفتیش پر مجبور کیا، جس کے نتیجے میں اکبری کو گرفتار کر لیا گیا۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق، اکبری نے 11 مردوں کو قتل کرنے اور ایک کو قتل کرنے کی کوشش کا اعتراف کیا ہے۔
استغاثہ کا کہنا ہے کہ وہ ہر قتل کی منصوبہ بندی بہت محتاط طریقے سے کرتی تھیں، اپنے شکار کی صحت کا مشاہدہ کرتی تھیں اور بالکل صحیح وقت پر کارروائی کرتی تھیں تاکہ کسی کو شک نہ ہو۔
سماعت کے دوران چار مقتولین کے اہل خانہ نے مطالبہ کیا کہ اکبری کو سزائے موت دی جائے۔ اب تک 45 سے زائد افراد اس مقدمے میں بطور مدعی شامل ہو چکے ہیں۔
اس مقدمے نے ایرانی اور بین الاقوامی میڈیا کی گہری توجہ حاصل کی ہے، اور آخری سماعتوں کے بعد جلد ہی فیصلے کی توقع کی جا رہی ہے۔





