ابوظہبی: ماہرین شہری منصوبہ بندی کا کہنا ہے کہ اتحاد ریل کی مسافر ٹرین سروس شروع ہونے کے بعد متحدہ عرب امارات میں شہروں کے درمیان تیز رفتار اور قابل اعتماد سفر ممکن ہو گا، جس سے آمدورفت کا وقت 40 فیصد تک کم ہو جائے گا اور چھوٹے شہروں تک رسائی بڑھے گی۔ یہ نیٹ ورک 200 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کی سہولت فراہم کرے گا اور بین الامارات روابط کو نئی شکل دے گا۔
ایف ٹی آئی کنسلٹنگ کے منیجنگ ڈائریکٹر سرکان الطرک کے مطابق یہ نیٹ ورک معاشرتی روابط مضبوط کرے گا اور کام و تفریح دونوں مقاصد کے لیے شہروں کے درمیان ہموار سفر ممکن بنائے گا۔ ماہر شہری منصوبہ بندی شویتا گاندھی کا کہنا ہے کہ یہ ریل سسٹم ایک نئے علاقائی شہری نظام کی ریڑھ کی ہڈی ثابت ہو سکتا ہے، جہاں لوگ ایک امارت میں رہ کر دوسری امارت میں کام کر سکیں اور ویک اینڈ کسی تیسرے شہر میں گزار سکیں۔
اتحاد ریل کی مسافر ٹرین سروس 2026 میں متعارف کرائی جائے گی، جسے دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم نے حال ہی میں دبئی سے فجیرہ سفر کر کے سراہا۔ اندازہ ہے کہ اس نیٹ ورک کے ذریعے سالانہ 3 کروڑ 65 لاکھ مسافر سفر کریں گے، جس سے سڑکوں پر دباؤ کم ہو گا اور ایک ٹرین 300 تک گاڑیوں یا ٹرکوں کا بوجھ کم کر سکے گی۔
ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ متحدہ عرب امارات کے ماحولیاتی اہداف سے ہم آہنگ ہے، کیونکہ ٹرینوں کا کاربن اخراج سب سے کم ہوتا ہے۔ 2025 سے 2030 کے دوران 1,000 کلومیٹر ریل انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کا منصوبہ ہے، جس سے مسافر ٹرینوں کی تعداد بتدریج 2050 تک بڑھائی جائے گی۔
یہ منصوبہ نہ صرف پائیدار اور کم لاگت سفر فراہم کرے گا بلکہ 2030 تک 9,000 سے زائد براہِ راست اور متعدد بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا کرے گا، خصوصاً اسٹیشنوں کے قریب ریٹیل، مہمان نوازی اور رئیل اسٹیٹ کے شعبوں میں۔ بہتر کنیکٹیویٹی مقامی معیشت کو فروغ دے گی اور دیہی علاقوں میں تعلیم و صحت تک بہتر رسائی فراہم کرے گی۔
البتہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار آخری مرحلے کی ٹرانسپورٹ سہولتوں، مقامی پبلک ٹرانزٹ سسٹمز کے ساتھ بہتر انضمام اور زمین کے استعمال پر موثر کنٹرول پر بھی ہو گا، تاکہ چھوٹے شہروں کو محض رہائشی ڈورمیٹریز کے بجائے مکمل ترقی یافتہ کمیونٹیز بنایا جا سکے۔





