زاہد بلوچ کا بلاگ
بھارتی ریفائنریز نے امریکا کی جانب سے روس کی دو بڑی تیل کمپنیوں پر نئی پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد روسی تیل کی درآمدات میں نمایاں کمی کا فیصلہ کیا ہے۔
صنعتی ذرائع کے مطابق یہ اقدام ممکنہ طور پر امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدے کی راہ میں حائل بڑی رکاوٹ کو دور کرسکتا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق یہ تبدیلی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارت کو امریکی برآمدات پر 50 فیصد سخت ٹیرف کا سامنا ہے، جن میں نصف محصولات روسی تیل کی خریداری کے جواب میں عائد کیے گئے ہیں۔
بھارت اور امریکا کے درمیان ممکنہ تجارتی معاہدے پر مذاکرات جاری ہیں، جس کے تحت بھارت اگر روسی تیل کی درآمدات کم کردے تو اسے دیگر ایشیائی ممالک کے برابر رعایت مل سکتی ہے۔
روس کی جانب سے 2022 میں یوکرین پر حملے کے بعد بھارت روسی تیل کا سب سے بڑا خریدار بن کر ابھرا ہے، جو اس سال کے پہلے نو مہینوں میں روزانہ تقریباً 17 لاکھ بیرل تیل درآمد کر رہا تھا۔ذرائع کے مطابق نجی شعبے کی سب سے بڑی کمپنی ریلائنس انڈسٹریز، جو روسی خام تیل کی سب سے بڑی بھارتی خریدار ہے، روسی کمپنی Rosneft کےساتھ اپنے طویل المدتی معاہدے کے تحت تیل کی خریداری میں کمی یا مکمل بندش پر غور کر رہی ہے۔
کمپنی کے ترجمان نے کہا کہ "روسی تیل کی درآمدات میں از سر نو توازن لایا جا رہا ہے اور ریلائنس بھارتی حکومت کی ہدایات پر مکمل عمل کرے گی۔
بھارتی سرکاری ریفائنریز جیسے انڈین آئل کارپوریشن (IOC)، بھارت پٹرولیم (BPCL) اور ہندوستان پٹرولیم (HPCL) بھی اپنے تجارتی معاہدوں کا جائزہ لے رہی ہیں تاکہ پابندی کے بعد روسی کمپنیوں Rosneft اور Lukoil سے براہِ راست تیل کی فراہمی بند کی جا سکے۔
ایک صنعتی ذریعے کے مطابق، "درآمدات میں نمایاں کمی ہوگی، اگرچہ فوری طور پر یہ صفر نہیں ہوں گی کیونکہ کچھ مقدار بالواسطہ ذرائع سے آ سکتی ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ نے کمپنیوں کو 21 نومبر تک روسی تیل کمپنیوں کے ساتھ لین دین ختم کرنے کی مہلت دی ہے۔ایک بھارتی ریفائنری اہلکار نے کہا، "یہ سب بینکوں پر منحصر ہے۔
اگر بینک ادائیگیوں کی منظوری دیتے ہیں تو خریداری جاری رہے گی، بصورت دیگر درآمدات صفر ہوں گی۔”ریلائنس، جو ارب پتی مکیش امبانی کی ملکیت ہے اور گجرات کے شہر جام نگر میں دنیا کے سب سے بڑے ریفائننگ کمپلیکس کی مالک ہے، روسی کمپنی Rosneft سے تقریباً پانچ لاکھ بیرل یومیہ تیل خریدنے کا طویل معاہدہ رکھتی ہے۔ حالیہ دنوں میں کمپنی نے مشرقِ وسطیٰ اور برازیل سے تیل کی خریداری شروع کی ہے تاکہ روسی سپلائی کا جزوی متبادل حاصل کیا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق نایارا انرجی، جس میں Rosneft کا سب سے بڑا حصہ ہے، بھی روسی ریاستی کمپنی سے تیل خریدتی ہے۔ تاہم بھارتی سرکاری ریفائنریز عموماً روسی کمپنیوں سے براہِ راست خریداری کے بجائے ثالثوں کے ذریعے تجارت کرتی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارت پرروس سے تیل کی خریداری ختم کرنے کا دباو مودی سرکار کے لیے سخت مشکلات پیدا کررہا ہے،بی جے پی حکومت کی اپوزیشن جماعتیں نریندر مودی کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنارہی ہیں۔





