اسلام آباد: پولیس سروس کے افسر ایس پی عدیل اکبر نے خودکشی کر لی، یہ افسوسناک خبرپمز کے ماہر نفسیات ڈاکٹر حافظ سلطان محمد نے سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ ایس پی عدیل اکبر گزشتہ رات ان کے پاس مشاورت کے لیے آئے تھے۔
ڈاکٹر حافظ سلطان محمد کے مطابق، انہوں نے عدیل اکبر کو بتایا تھا کہ وہ شدید ذہنی دباؤ میں ہیں اور فوری طور پر پمز اسپتال کے پرائیویٹ وارڈ میں داخلے کی ضرورت ہے۔ تاہم، وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ واپس گئے اور کہا کہ ’’میں اپنی ڈپریشن کو خود قابو کر لوں گا‘‘، لیکن افسوس کہ 24 گھنٹے کے اندر ہی یہ سانحہ پیش آ گیا۔
ڈاکٹر کے مطابق، ایس پی عدیل اکبر کی اہلیہ ڈاکٹر ہیں اور ان کی تین سالہ ننھی بیٹی ہے جس سے وہ کل رات بہت محبت سے پیش آ رہے تھے۔ انہیں ہدایت دی گئی تھی کہ تمام اسلحہ اور تیز دھار اشیاء ان سے دور رکھیں، لیکن تقدیر کچھ اور تھی۔
ایس پی عدیل اکبر نے بتایا تھا کہ انہوں نے دو مرتبہ سی ایس ایس امتحان پاس کیا اور اپنے بیج میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ ان کی حالیہ پوسٹنگز کوئٹہ، تربت اور پھر دس دن قبل کشمیر میں ہوئی تھیں۔ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ ان کی ڈپریشن کا تعلق پوسٹنگز سے نہیں بلکہ یہ ایک ایسی کیفیت ہے جو بیان سے باہر ہے۔
ڈاکٹر حافظ سلطان کا کہنا تھا یہ افسوسناک واقعہ پولیس افسران میں بڑھتے ہوئے ذہنی دباؤ اور نفسیاتی مسائل کی سنگینی کو اجاگر کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا کرے۔
اسلام آبادپولیس کے اندرونی ذرائع سے معلوم ہواکہ وقوعہ کے وقت ایس پی عدیل اکبر کے ساتھ گن مین اور آپریٹر موجود تھے،ایس پی نے گن مین سے پسٹل کا مطالبہ کیا اور انہیں گاڑی سے باہر جانے کا کہا ان کے باہر جانے پر گولی چلاتے ہوئے خودکشی کرلی،گن میں اور آپریٹر پولیس حراست میں ہیں۔





