امریکہ میں مقیم ایک بھارتی نژاد شخص کو بیک وقت دو نوکریاں کرنے اور ریاستی فنڈز سے 50 ہزار ڈالر چوری کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ملزم کی شناخت مہول گوسوامی (Mehul Goswami) کے نام سے ہوئی ہے، جسے اب گرانڈ لارسنی Grand Larceny ( یہ ایک سنگین مالی جرم ہے جو امریکہ کے فوجداری قوانین کے تحت چوری کی ایک اعلیٰ درجے کی قسم سمجھی جاتی ہے۔اسے یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ جب کوئی شخص کسی دوسرے کی ملکیت خاص طور پر رقم، قیمتی سامان، یا ریاستی فنڈز ایک مخصوص حد سے زیادہ مالیت کا غیر قانونی طور پر ہتھیا لے)کے الزام میں 15 سال قید کا سامنا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، گوسوامی نیو یارک اسٹیٹ آفس آف انفارمیشن ٹیکنالوجی سروسز (ITS) میں ریموٹ ملازم کے طور پر کام کر رہا تھا، جبکہ اس نے ساتھ ہی مالٹا (Malta) کے علاقے میں دوسری نوکری بھی کر رکھی تھی اور دونوں جگہوں سے تنخواہیں وصول کر رہا تھا۔
اس کیس کی تحقیقات سراٹوگا کاؤنٹی شیرف آفس اور نیو یارک اسٹیٹ انسپکٹر جنرل کے دفتر نے مشترکہ طور پر کیں۔
انسپکٹر جنرل لوسی لینگ (Lucy Lang) کے مطابق سرکاری ملازمین پر دیانت داری کے ساتھ خدمت کرنے کی ذمہ داری ہوتی ہے، اور مسٹر گوسوامی کا مبینہ رویہ اس اعتماد کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ریاستی ملازم ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے دوسری فل ٹائم نوکری کرنا عوامی وسائل، خصوصاً ٹیکس دہندگان کے پیسوں کا غلط استعمال ہے۔
رپورٹس کے مطابق، نیویارک کے نئے قوانین کے تحت گوسوامی کا یہ جرم ناقابلِ ضمانت (Non-bailable) قرار دیا گیا ہے۔
ایک بیان میں کہا گیا کہ ہم اپنے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعلقات کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ یہ کیس تعاون کی طاقت کی بہترین مثال ہے، اور ہم امید کرتے ہیں کہ عدالت میں اس کا فیصلہ کامیابی سے ہو گا۔
دو جگہوں پر بیک وقت کام کرنا، جسے عرف عام میں “Moonlighting” کہا جاتا ہے، گزشتہ چند برسوں میں امریکہ میں زیادہ عام ہو گیا ہے۔
یو ایس سینسس بیورو (US Census Bureau) کے مطابق 1996 سے 2018 کے درمیان ایک سے زیادہ نوکریاں کرنے والے امریکیوں کی تعداد میں 10 فیصد اضافہ ہوا۔
محکمہ محنت کے بیورو آف لیبر اسٹیٹسٹکس (BLS) کے اعداد و شمار کے مطابق، 2022 میں 40 لاکھ سے زائد امریکی کارکن دو نوکریاں کر رہے تھے جن میں سے کئی ہزار ایک ہی وقت میں دو مکمل وقتی (Full-time) نوکریاں کر رہے تھے۔
بھارت میں بھی Moonlighting کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، خاص طور پر آئی ٹی سیکٹر میں۔
اس کی وجوہات میں تنخواہوں میں کم اضافہ، مہنگائی، اور زندگی کے بڑھتے اخراجات شامل ہیں۔اسی باعث، بہت سی کمپنیاں اب اپنے ملازمین کی جانچ سخت کر رہی ہیں تاکہ چھپی ہوئی اضافی ملازمتوں کا پتہ چلایا جا سکے۔





