ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں بھارت سے تعلق رکھنے والے ایک لاکھ سے زائد تارکِ وطن ٹرک ڈرائیورز مشکل میں پھنس گئے ہیں۔یہ صورتحال اُس وقت پیدا ہوئی جب دو مہلک ٹرک حادثات میں سکھ ڈرائیورز کے ملوث ہونے کے بعد کی گئی امریکی وفاقی آڈٹ رپورٹ میں کمرشل ڈرائیونگ لائسنس (CDL) کے اجراء میں وسیع پیمانے پر بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔
امریکی محکمۂ ٹرانسپورٹ (DOT) کے تحت فیڈرل موٹر کیریئر سیفٹی ایڈمنسٹریشن (FMCSA) نے ایک ملک گیر آڈٹ کے نتائج جاری کیے، جن میں انکشاف ہوا کہ کئی ریاستوں نے نااہل افراد کو CDL لائسنس جاری کیے، جن میں غیر قانونی تارکینِ وطن بھی شامل ہیں جو کہ قانونی حیثیت اور انگریزی زبان کی اہلیت سے متعلق وفاقی معیار کی خلاف ورزی ہے۔
رپورٹ کے مطابق کیلیفورنیا اُن ریاستوں میں سے ایک ہے جہاں سب سے زیادہ بے ضابطگیاں پائی گئیں۔آڈٹ میں انکشاف ہوا کہ کیلیفورنیا میں 25 فیصد سے زائد “نان ڈومیسائلڈ” CDL لائسنس غلط طور پر جاری کیے گئے، جن میں بعض ایسے افراد کو لائسنس ملا جن کی امریکی قیام کی مدت ختم ہوچکی تھی۔
اگرچہ آڈٹ میں بھارتی نژاد ٹرک ڈرائیورز کی درست تعداد ظاہر نہیں کی گئی، لیکن کیلیفورنیا اور فلوریڈا میں پیش آئے دو مہلک حادثات، جن میں ڈرائیورز بعد میں بھارت سے آئے غیر قانونی تارکینِ وطن نکلے، ایک بڑی وفاقی کارروائی کا باعث بنے ہیں۔
فلوریڈا میں ہرجندر سنگھ کا کیس خاص توجہ کا مرکز بنا۔حکام کے مطابق سنگھ، جو کہ "غیر قانونی ٹرک ڈرائیور” تھا، اگست میں تین افراد کی موت کے ذمہ دار حادثے میں ملوث پایا گیا اور اب فلوریڈا اٹارنی جنرل آفس اس کیس کی تحقیقات کر رہا ہے۔
تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ مارچ سے مئی 2023 کے درمیان سنگھ نے واشنگٹن ریاست میں CDL ٹیسٹ دس بار ناکام دیا،دو بار ایئر بریکس نالج ٹیسٹ میں فیل ہوا،لیکن واشنگٹن کی کمپنی نے پھر بھی تصدیق کی کہ وہ انگریزی بولنے میں ماہر ہے جسے فلوریڈا کے پراسیکیوٹرز نے جھوٹا دعویٰ قرار دیا۔
یہ معاملہ اب ریپبلکن اکثریتی فلوریڈا کو ڈیموکریٹک ریاستوں کیلیفورنیا اور واشنگٹن کے خلاف کھڑا کر چکا ہے۔فلوریڈا کے اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کیا ہے تاکہ ان ریاستوں کو غیر قانونی تارکینِ وطن کو CDL جاری کرنے سے روکا جائے اور انہیں وفاقی سکیورٹی و امیگریشن قوانین پر عملدرآمد پر مجبور کیا جائے۔
اسی دوران ٹرمپ انتظامیہ نے بھی کیلیفورنیا اور واشنگٹن پر سخت تنقید کی ہے،اور MAGA تحریک کے حامیوں نے اس معاملے کو امیگریشن مخالف مہم کا حصہ بنا دیا ہے۔امریکی ٹرانسپورٹ کے سیکرٹری شان ڈفی کا کہنا تھا کہ 80ہزار پاؤنڈ وزنی ٹرک چلانے کے لائسنس خطرناک غیر ملکی ڈرائیورز کو اکثر غیر قانونی طور پر دیے جا رہے ہیں۔یہ ہر امریکی خاندان کی سڑکوں پر حفاظت کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔انہوں نے نان ڈومیسائلڈ CDL لائسنسوں کو “قومی ایمرجنسی” قرار دیا۔
امریکہ میں مقیم بھارتی نژاد ٹرک ڈرائیورز کے لیے یہ صورتِ حال نہایت پریشان کن بن گئی ہے۔ایک جانب، ہزاروں قانونی طور پر کام کرنے والے بھارتی ڈرائیورز اب اپنے لائسنس یا ملازمت کھونے کے خدشے سے دوچار ہیںاور دوسری جانب، اس سخت نگرانی سے نسلی تعصب کے جذبات بڑھنے کا خطرہ ہے۔
فلوریڈا کے مقامی ٹی وی چینلز نے بھی سٹنگ آپریشنز کے ذریعے دعویٰ کیا ہے کہ کچھ امیگرنٹ امیدوار انگریزی ٹیسٹ میں دھوکہ دہی کے لیے ڈیوائسز کے ذریعے باہر سے جوابات لیتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی سرخیاں
“غیر قانونی امیگرنٹ ٹرک ڈرائیور نے مہلک حادثہ کیا” پورے بھارتی ٹرک ڈرائیور طبقے کے خلاف متعصبانہ رویے کو ہوا دے سکتی ہیں،چاہے وہ قانونی ہوں اور ان کا ریکارڈ صاف ہو۔کئی بھارتی نژاد ڈرائیورز کا کہنا ہے کہ اب انہیںٹرک اسٹاپس پر شک بھری نظروں سے دیکھا جاتا ہے،پولیس کی جانب سے زیادہ بار چیک کیے جاتا ہے ۔ اور ایک عمومی احساس ہے کہ وہ “چند افراد کی غلطیوں کی سزا بھگت رہے ہیں۔”
سوشل میڈیا پر ایک پڑھے لکھے سکھ ڈرائیور گروپ نے لکھا:
“ہاں، ہم انگریزی بولتے ہیں۔
ہاں، ہم قانون، سڑک اور اصول سمجھتے ہیں۔
ہم یہاں صحیح طریقے سے آئے ،قانونی طور پر۔
ہم اس ملک، اس کے لوگوں اور اس کی اقدار کا احترام کرتے ہیں۔
لیکن جب ہم کسی پٹرول پمپ یا آرام گاہ پر رکتے ہیں،تو ہمیں اُن نظروں کا احساس ہوتا ہے ۔
شک، فاصلہ، اجنبیت۔
ہمیں ہمارے دلوں یا کام سے نہیں، بلکہ چند لوگوں کی غلطیوں سے پرکھا جاتا ہے۔یہ تکلیف دیتا ہے…
کیونکہ ہم بھی اسی سڑک اور اسی خواب کا حصہ ہیں۔”





