اسلام آباد : نیشنل سائبر کرائم ایجنسی کے ڈپٹی ڈائریکٹر کو تاحال بازیاب نہ کرایا جاسکا، ڈی ایس پی لیگل کا کہنا ہے کہ لاپتہ ڈپٹی ڈائریکٹر ٹک ٹاکر ڈکی بھائی کیس کی تحقیقات کر رہے تھے۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں نیشنل کاؤنٹر کرائم اینڈ انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد عثمان کو لاپتہ ہوئے 10 روز گزر گئے، تاہم اب تک بازیاب نہ ہو سکے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے پولیس کو مغوی کی تلاش کے لیے مزید ایک ہفتے کی مہلت دیتے ہوئے واٹس ایپ ریکارڈ کا ڈیٹا چیک کرنے کا حکم دے دیا۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ "اصل مقصد معاملہ حل کرنا ہے، صرف تاریخیں دینا نہیں”، عدالت نے پولیس سے پیشرفت رپورٹ طلب کرلی۔
سماعت کے دوران ڈی ایس پی لیگل نے بتایا کہ :لاپتہ ڈپٹی ڈائریکٹر کی تلاش اور تحقیقات جاری ہیں ، ایس ایس پی انویسٹی گیشن معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا لاپتہ افسر ٹک ٹاکر ڈکی بھائی کیس کی تحقیقات کر رہے تھے، اور اس کیس سے منسلک دیگر افسران بھی غائب ہیں، ڈکی بھائی کیس کی متعلقہ تھانہ لاہور میں ہے جو تحقیقات کر رہا تھا۔
ڈی ایس پی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ 18اکتوبر تک کا ڈیٹا ہے درخواست گزار کی اہلیہ پہلے لاہور پھر اسلام آباد میں تھیں ،اہلیہ کا ایڈریس ایمپریس روڈ کا آرہا ہے اس کے بعد فون بند ہے،تفتیشی افسر انکے گھر گیا تو تو لاک تھا اور بچے بھی ان کے ساتھ ہیں۔
وکیل رضوان عباسی نے بتایا کہ آخری کال درخواست گزار کو دھمکی آمیز آئی کہ پٹیشن واپس لیں، جس پر جسٹس اعظم خان نے کہا کہ مطلب درخواست گزار مستقل لاہور رہتی ہیں ، شوہر اسلام آباد میں رہتےہیں ، ہو سکتا ہے وہ والدین یا رشتےداروں کے پاس رہ رہی ہوں۔
ڈی ایس پی لیگل کا کہنا تھا کہ لاپتہ ڈپٹی ڈائریکٹر کی آخری لوکیشن ایف 6کی آئی ،سی سی ٹی وی چیک کئےہیں ، واٹس ایپ ڈیٹا اگر مل جائے تو سب پتہ چل جائے گا۔
واٹس ایپ ڈیٹا کے لیے ڈی ایس پی لیگل نے ایک ہفتے کا وقت مانگ لیا، عدالت نے پولیس کی استدعا منظور کر کے مغوی کی بازیابی کیلئے ایک ہفتے کا وقت دےدیا اور کیس کی سماعت اگلے جمعے31اکتوبر تک ملتوی کردی۔





