متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں رہنے والے بھارتی باشندے جو نیا پاسپورٹ بنوانا چاہتے ہیں یا پرانے پاسپورٹ کی تجدید کرانا چاہتے ہیں، انہیں اب نئی ہدایات پر عمل کرنا ہوگا۔ حکام کے مطابق، 28 اکتوبر سے یو اے ای میں بھارتی مشن نے تمام پاسپورٹ سے متعلق خدمات کے لیے نیا پاسپورٹ سیوا پروگرام (GPSP2.0) متعارف کرایا ہے۔
اب سے تمام درخواست گزاروں کو صرف ای۔پاسپورٹ جاری کیا جائے گا — جو ایک کاغذی اور الیکٹرانک پاسپورٹ کا امتزاج ہے۔ اس میں ریڈیو فریکوئنسی آئیڈینٹیفکیشن (RFID) چپ اور ایک اینٹینا بطور اِن لے (inlay) نصب ہوتا ہے، جو پاسپورٹ کے اندر درخواست گزار کی ذاتی معلومات محفوظ رکھتا ہے۔
نیا طریقہ کار اور ای۔پاسپورٹ کے بارے میں 10 اہم باتیں جو آپ کو معلوم ہونی چاہئیں:
- درخواست کا طریقہ
جو لوگ نیا پاسپورٹ بنوانا چاہتے ہیں یا پرانے پاسپورٹ کی تجدید کرنا چاہتے ہیں، انہیں متعلقہ آن لائن پورٹل جانا ہوگا۔اپ گریڈ کیا گیا GPSP 2.0 پلیٹ فارم درخواست گزاروں کو اپنے گھروں سے ہی آسانی کے ساتھ فارم پُر کرنے اور درکار دستاویزات اپ لوڈ کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
- آٹو فِل آپشن
نیا پورٹل آٹو فِل (Auto-fill) آپشن کے ساتھ آتا ہے۔جو درخواست گزار اپنا پرانا پاسپورٹ ری نیو کر رہے ہیں، وہ صرف اپنا پرانا پاسپورٹ نمبر درج کریں گے تو ان کی تمام پرانی تفصیلات خودکار طریقے سے سسٹم میں بھر جائیں گی۔حکام کے مطابق، یہ عمل تقریباً دو منٹ میں مکمل ہو جاتا ہے۔
- آئی سی اے او (ICAO) منظور شدہ تصویر
نئے پاسپورٹ سسٹم میں ایک اہم تبدیلی یہ ہے کہ تصویر بین الاقوامی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن (ICAO) کے معیار کے مطابق ہونی چاہیے۔اس کے لیے:پس منظر بالکل سفید ہو،چہرے کا تاثّر نیوٹرل (سیدھا اور بغیر مسکراہٹ کے) ہو،آنکھیں کھلی ہوں،چہرہ تصویر کا 70 سے 80 فیصد حصہ گھیرے،روشنی یکساں ہو،تصویر ہائی ریزولوشن، صاف اور کسی سافٹ ویئر سے ایڈیٹ شدہ نہ ہو،سایہ، ریڈ آئی یا ایسی عینک نہ ہو جو آنکھوں کو چھپائے۔
- سروس پرووائیڈر کا وزٹ
آن لائن درخواست مکمل ہونے کے بعد درخواست گزار کو سروس پرووائیڈر کے دفتر جانا ہوگا — جو یو اے ای میں بی ایل ایس انٹرنیشنل (BLS International) ہے۔انہیں اپنے ساتھ کچھ اصل دستاویزات لے کر جانا ہوں گے، جیسے:پاسپورٹ، امارات آئی ڈی، اور اگر ضرورت ہو تو پتے کا ثبوت۔دستاویزات کی مکمل فہرست GPSP 2.0پورٹل پر دستیاب ہوگی۔
- تبدیلیوں کے لیے کوئی چارجز نہیں
نئے نظام کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اب معمولی تبدیلیوں (Minor edits) کے لیے کوئی فیس نہیں لی جائے گی۔پہلے اگر معمولی ٹائپو بھی ہوتی تو سروس پرووائیڈر کو پوری درخواست دوبارہ جمع کرنی پڑتی تھی، جس کے لیے فیس لی جاتی تھی۔اب ایسی چھوٹی تبدیلیاں مفت میں کی جا سکتی ہیں۔
- بایومیٹرکس کی ضرورت نہیں
فی الحال یو اے ای سے پاسپورٹ کے لیے درخواست دینے والوں سے بایومیٹرک تفصیلات نہیں لی جائیں گی۔البتہ، بھارت سے درخواست دینے والوں کے لیے بایومیٹرک لازمی ہے۔سفارتخانے اور قونصلیٹ کے حکام کے مطابق، مستقبل میں بیرون ملک بھی بایومیٹرک جمع کروانے کی سہولت متعارف کرانے کا منصوبہ ہے۔
- فیس میں کوئی تبدیلی نہیں
حکام نے تصدیق کی ہے کہ نئے ای۔پاسپورٹ کے لیے سروس فیس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ان کا کہنا ہے کہ پاسپورٹ بننے کے مدتِ تکمیل (Turnaround time) کو بھی وہی رکھا جائے گا۔
- پاسپورٹ کا نیا فارمیٹ
نئے آر ایف آئی ڈی (RFID) چِپ والے پاسپورٹس کا نیا ڈیزائن اور نیا سیریل نمبر فارمیٹ ہوگا۔موجودہ پاسپورٹس میں ایک حرف کے بعد نمبرز ہوتے ہیں، جبکہ نئے پاسپورٹس میں دو حروف کے بعد سیریل نمبر ہوگا۔نئے ای۔پاسپورٹس پر ایک سنہری رنگ کا چھوٹا RFID نشان بھی موجود ہوگا۔
- موجودہ پاسپورٹس کے لیے کوئی جلدی نہیں
موجودہ بھارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کو اپنے پاسپورٹس فوراً تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں۔ان کے موجودہ پاسپورٹ اپنی میعادِ اختتام (expiry date) تک درست رہیں گے۔جنہوں نے پہلے ہی درخواست جمع کرائی ہوئی ہے، وہ پرانے طرز کے پاسپورٹ بھی حاصل کر سکتے ہیں،تاہم اب سے تمام نئے پاسپورٹس ای۔پاسپورٹس ہوں گے۔
- صبر و تحمل سے کام لیں
یو اے ای میں بھارتی مشن نے درخواست گزاروں سے اپیل کی ہے کہ نظام کے ابتدائی ہفتوں میں صبر سے کام لیں کیونکہ شروع میں کچھ تکنیکی مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔حکام کے مطابق، اس نظام کو کافی عرصے سے آزمائشی طور پر چلایا جا رہا تھا اور زیادہ تر مسائل حل کر دیے گئے ہیں،تاہم جب زیادہ لوگ استعمال شروع کریں گے تو کچھ تاخیر ممکن ہے۔
نئے ای۔پاسپورٹس — جو پہلے ہی جاری ہونا شروع ہو چکے ہیں — بھارتی مسافروں کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہیں۔حکام کے مطابق، اس میں موجود چِپ کو دنیا بھر کے ای۔گیٹس اور امیگریشن سسٹمز پر اسکین اور ویری فائی کیا جا سکتا ہے،جس سے انتظار کا وقت کم ہوگا اور سفر زیادہ آسان اور تیز تر بن جائے گا۔





