اسلام آباد ( رئوف کلاسرا آفیشل ایکسکلوسِو رپورٹ ) ڈی ایس پی عثمان گجر کے خلاف بیوی اور بیٹی کو مبینہ طور پر قتل کرنے کے بعد بھی لاہور پولیس ثبوتوں کے باوجود اسے بریک نہ کرسکی تو یہ ٹاسک ایس پی ماڈل ٹائون/کینٹ ڈاکٹر ایاز کو دیا گیا تھا۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس محکمے میں عثمان گجر کو بریک کرنے کا ٹاسک ڈاکٹر ایاز کو اس وقت دیا گیا جب یہ بات سامنے آئی کہ کوئی بھی اس کو سامنے بٹھا کر ثبوت دکھا کر توڑنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ آخرکار ڈی آئی جی ذیشان حیدر نے یہ ٹاسک ڈاکٹر ایاز کو سونپی جنہوں نے رات کو چار گھنٹے میں نہ صرف ملزم کو اعتراف جرم کیا بلکہ وہ ان جگہوں پر بھی صبح تین بجے لے گیا جہاں اس نے اپنی بیوی اور بیٹی کی لاشیں پھینکی تھیں۔
ذرائع کے مطابق ایس پی راحیلہ اقبال اور ان کی ٹیم نے اس کیس کی فرانزک سائیڈ پر کام کیا تھا اور جب انہیں گاڑی کی پسیجنر سیٹ اور بیک سیٹ پر لیدر کے نیچے خون جما ہوا ملا تھا تو انہیں یقین ہوگیا تھا کہ قاتل یہ تھا۔ لیکن اگلا مرحلہ یہ تھا کہ اس سے کون اعتراف کرائے گا کیونکہ وہ اب ترقی پا کر ایس پی بھی بن چکا تھا۔ محکمے کے جونئیر اہلکار اور افسران عثمان گجر کا سامنا کرنے سے کترا رہے تھے۔
تاہم ڈاکٹر ایاز جن کے بارے بتایا گیا ہے ان کا وہ علاقہ بھی نہیں بنتا تھا انہیں یہ ٹاسک دیا گیا جس پر انہوں نے عثمان گجر کو سامنے بٹھا کر بتایا کہ ان کے پاس اب کافی ثبوت ہیں۔ بہتر ہے وہ اب تعاون کریں۔ تاہم عثمان گجر انکاری رہا۔
اس پر بتایا جاتا ہے کہ ڈی ایس پی کو خبردار کیا گیا کہ کہا آپ خود ڈیپارٹمنٹ کے بندے ہیں۔ آپ سے بہتر کون جانتا ہے جب پولیس کے پاس ثبوت ہوں تو پھر کیا طریقہ استعمال ہوسکتا ہے۔ لہذا بہتر ہے پولیس روایتی طریقے سے آپ سے اعتراف نہ کرائے ۔ کچھ دیر سوچنے کے بعد ڈی ایس پی نے سب کچھ اعتراف کر لیا۔
قتل کی وجہ پوچھنے پر پتہ چلا کہ پلاٹ کے دو کروڑ پیسوں کا مسئلہ تھا۔ وہ خاتون اپنی بیٹی کے ساتھ کرائے کے گھر پر رہ رہی تھی۔ وہ اپنا گھر بنانا چاہتی تھی۔ تاہم وہ پیسے ڈی ایس پی دیگر ایشوز پر خرچ کرچکا تھا۔ جس پر ان کی تکرار ہوئی۔ بیوی نے گاڑی میں ہی اپنے خاوند کو کچھ کہا تو اس نے MM9 پستول سے فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ پھر بیٹی کو گولیاں ماریں۔ جب دوران تفتیش پوچھا گیا کہ بیٹی کو کیوں مارا تو جواب دیا کہ وہ بھی ماں کی زبان بول رہی تھی۔
بعد میں ڈی ایس پی ڈاکٹر ایاز اور ان کی ٹیم کو کالا شاہ کاکو لے گیا جہاں اس نے بیوی کی لاش پھینکی تھی۔
اس وقت صبح چار بجے متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او کو بلایا گیا۔ پتہ چلا یہاں سے ایک خاتون کے ڈی کمپوز باڈی ملی تھی جسے پوسٹ مارٹم کے بعد امانتاً دفنا کر اس پر کوئی کاروائی نہ ہوئی تھی۔
پھر وہاں سے ڈی ایس پی پولیس پارٹی کو قصور کے قریب ایک نالے تک لے گیا جہاں اس نے بیٹی کی لاش پھینکی تھی۔ وہاں بھی معتلقہ تھانے کے ایس ایچ او کو بلایا گیا۔ اس نے بھی تصدیق کی کہ یہاں سے ایک بیس بائیس سالہ لڑکی کی ڈی کمپوز باڈی ملی تھی۔
یوں ان تمام شواہد کی روشنی اور اعتراف کے بعد مقتولہ کی بہن کی درخواست پر نئی ایف آئی آر کاٹ کر گرفتار کر لیا گیا۔





