نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے سولر نیٹ میٹرنگ کے نظام میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی تجویز دیتے ہوئے مسودہ قواعد جاری کیے ہیں جن میں کم ادائیگیاں، چھوٹے سسٹم سائز اور مختصر معاہدے شامل ہیں اور عوامی رائے کے لیے 30 دن کی مدت دی گئی ہے۔
مسودہ پروسمر قواعد 2025 موجودہ 2015 کے نیٹ میٹرنگ قوانین کی جگہ لے گا۔ نیپرا کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلیاں پاور سسٹم کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں تاہم صارفین کو بجلی کے بل کم کرنے کے لیے سولر توانائی استعمال کرنے کی سہولت بھی برقرار رہے گی۔
تجویز کردہ قواعد کے مطابق صارفین اپنی منظور شدہ بجلی کے لوڈ سے زیادہ سولر سسٹم نصب نہیں کر سکیں گے۔ مثال کے طور پر 10 کلو واٹ لوڈ رکھنے والا صارف صرف 10 کلو واٹ سولر سسٹم لگا سکے گا۔ موجودہ قواعد کے تحت صارفین لوڈ کے ڈیڑھ گنا تک سسٹم نصب کر سکتے ہیں۔
موجودہ نیٹ میٹرنگ صارفین پر یہ تبدیلیاں فوری طور پر لاگو نہیں ہوں گی اور وہ اپنے 7 سالہ معاہدے کی مدت ختم ہونے تک موجودہ قوانین کے تحت رہیں گے۔ نئے کنکشنز کے لیے معاہدے کی مدت 5 سال ہوگی جبکہ اس سے زائد توسیع صارف اور پاور ڈسٹریبیوشن کمپنی کے باہمی معاہدے پر منحصر ہوگی۔
اضافی بجلی کی ادائیگی کی شرح بھی کم کر دی جائے گی جو قومی اوسط توانائی خرید قیمت (تقریباً 13 روپے فی یونٹ) کے مطابق ہوگی جبکہ موجودہ شرح 26 روپے فی یونٹ ہے۔
نیپرا نے کہا ہے کہ بڑھتی ہوئی بجلی کی قیمتوں، ٹیکس اور چارجز کی وجہ سے صارفین سولر توانائی کی جانب مائل ہو رہے ہیں۔ اب تک گرڈ سے منسلک سولر صلاحیت 6 ہزار میگا واٹ اور ملک میں کل سولر صلاحیت 13 ہزار میگا واٹ سے تجاوز کر چکی ہے۔
مسودہ قواعد کے تحت، اگر کسی ٹرانسفارمر کی صلاحیت کا 80 فیصد سولر جنریشن سے بھر جائے تو ڈسٹریبیوشن کمپنیاں نئی نیٹ میٹرنگ درخواستیں قبول نہیں کریں گی۔ 250 کلو واٹ یا اس سے زیادہ بڑے سسٹمز کے لیے تکنیکی مطالعات جمع کرانے کی شرط ہوگی تاکہ گرڈ کی استحکام یقینی بنائی جا سکے۔
نیپرا نے کہا ہے کہ یہ تبدیلیاں بجلی کے نظام کی حفاظت اور استحکام کے لیے ہیں، جبکہ صارفین کو سولر توانائی کے فوائد حاصل کرنے کی سہولت بھی دی جائے گی۔





